طوفانی بارش میں چھتیں گرنے سے2اموات، کئی زخمی۔صوابی ڈوب گیا۔کشتیوں میں ریسکیو
سیلابی صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل
اسلام آباد،راولپنڈی میں ایک ہفتے سے جاری بارش سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔جمعرات کو راولپنڈی میں مجموعی طور پر 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 8 فٹ ، گوالمنڈی میں ساڑھے 6 فٹ تک بلند ہے۔
محکمہ موسمیات کےمطابق سیدپورمیں 14، گولڑہ میں 34، بوکڑہ میں 19 ، پی ایم ڈی میں 12 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،شمس آباد میں 18،کچہری میں 23،پیرودھائی میں 28،نیوکٹاریاں میں 43 جبکہ گوالمنڈی میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی،بارش کےباعث نالہ لئی میں کٹاریاں کےمقام پر پانی کی سطح 8 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں ساڑھے 6 فٹ تک بلند ہے۔
بارش کےباعث مختلف علاقوں میں حادثات کی اطلاعات ہیں،اٹک کےجسیاں گاؤں میں شدید بارش کے باعث گھرکی چھت گرگئی،ملبے تلے دب کر ایک شخص شدید زخمی ہوگیا،جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
صوابی کےعلاقے آزادخیل،ٹوپی میں بارش کےباعث پڑوسی کی دیوارقریبی گھر کی چھت پرجاگری،حادثے میں باپ اور بیٹی سمیت 2 افراد جاں بحق، ماں اوربیٹا زخمی ہوگئے۔چارسدہ میں گزشتہ رات سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے،ضلعی انتظامیہ چارسدہ نے تیزآندھی طوفان اور بارش کےپیش نظر احتیاطی تدابیر اختیارکرنےکی ہدایت کردی،تیز آندھی اور بارش سے مختلف علاقوں میں پانی گھروں اوراسکولوں میں داخل ہوگیا، بارش اور اربن فلڈنگ کے خطرے کے پیش نظرچارسدہ کے بعض سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں میں آج تعطیل کا اعلان کردیا گیا۔
حکام کے مطابق ضلع صوابی کے مختلف متاثرہ علاقوں میں بارشوں کے باعث گلیاں اور محلے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔سیکڑوں افراد گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ ریسکیو کے مطابق اب تک 300 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق صوابی کی تحصیل رزڑ سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق خمزہ ڈھیر، منصب دار، مناگئ، ترکئی، لنڈی چم، قمرگئ اور ڈھنڈوقہ میں بارش کے پانی نے متعدد علاقوں کو متاثر کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں اور لائف جیکٹس کی مدد سے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے 300 سے زائد متاثرہ افراد کو گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرچکی ہیں۔ منتقل کیے جانے والوں میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔
گجرات،سیالکوٹ،نارووال، جہلم، اٹک اور چارسدہ سمیت مختلف شہروں اور گردونواح میں موسلا دھار اوروقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث گرمی اور حبس کی شدت میں کمی آگئی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔
گجرات میں آدھےگھنٹےکی بارش نےجل تھل ایک کردیا، گلی محلوں اورسڑکوں پرپانی جمع ہوگیا ۔ بعض نشیبی علاقوں اور گھروں میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا، جہلم میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے اورمتعدد علاقوں میں فیڈر ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی،اٹک اور چارسدہ میں بھی مسلسل بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ،اور شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔
صوابی، جہلم اور دیگر شہروں سے بھی بارش اور سیلابی صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔ بعض مقامات پر عمارتیں منہدم ہونے اور جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جہلم میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قائم آبادیاں زیرِ آب آگئی ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ گجرات میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔