اٹک میں ڈیم ٹوٹنے سے نقصانات کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال
متعدد مکانات، زرعی اراضی، کھڑی فصلوں، سرکاری سکول کی عمارت اور بجلی کے کھمبوں سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، رپورٹ
فائل فوٹو
ملہوالہ، یونین کونسل کمڑیال، تحصیل پنڈی گھیب میں شدید بارش کے باعث منی ڈیم کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے ڈائریکٹر محکمہ تحفظِ اراضی اٹک نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ ارسال کر دی ہے۔ 20 جولائی 2026 کو علاقے میں شدید بارش سے منی ڈیم کو نقصان پہنچا اور ذخیرہ شدہ پانی اچانک نچلے علاقوں کی جانب بہہ گیا، جس سے آبادی، رہائشی مکانات، زرعی اراضی اور فصلوں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ منی ڈیم سیوال سمال ڈیم کے زیریں جانب موضع ملہوالہ، یونین کونسل کمڑیال میں واقع تھا۔ محکمہ تحفظِ اراضی کے افسران اور فیلڈ اسٹاف نے موقع کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔
مقامی افراد کے مطابق مذکورہ منی ڈیم اس سے قبل بھی دو مرتبہ تعمیر کیا گیا اور ہر مرتبہ پانی کے ریلے میں بہہ گیا، تاہم وہ اس کے مالک یا تعمیر کنندہ کے بارے میں درست معلومات فراہم نہ کر سکے۔
محکمہ تحفظِ اراضی کی رپورٹ کے مطابق منی ڈیم کے ٹوٹنے سے نچلے علاقوں میں پانی کے بڑے بہاؤ کے باعث متعدد مکانات، زرعی اراضی، کھڑی فصلوں، سرکاری سکول کی عمارت اور بجلی کے کھمبوں سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ مکانات اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی حتمی تفصیلات متعلقہ ریونیو اور دیگر محکموں کی جانب سے الگ سے مرتب کی جا سکتی ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ منی ڈیم محکمہ تحفظِ اراضی کی جانب سے تعمیر نہیں کیا گیا اور نہ یہ محکمہ کے کسی منصوبے یا سکیم کے تحت تعمیر ہوا۔ محکمہ کی جانب سے اس کی تعمیر یا دوبارہ تعمیر کے لیے کوئی تکنیکی معاونت، ڈیزائن، نگرانی یا معائنہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ محکمہ کے پاس اس منی ڈیم کی تعمیر کی تاریخ، ڈیزائن، تعمیراتی ایجنسی یا ٹھیکیدار، فنڈنگ کے ذرائع، تکنیکی تفصیلات یا بعد ازاں کی جانے والی تعمیرِ نو کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ گزشتہ سال منی ڈیم کے بہہ جانے کے بعد اسے مبینہ طور پر اس کے مالکان نے اسی مقام پر نجی طور پر دوبارہ تعمیر کیا تھا۔محکمہ تحفظِ اراضی نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ملہوالہ کا مذکورہ منی ڈیم محکمہ کی تعمیر نہیں تھا اور نہ اسے محکمہ کی جانب سے کوئی تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ منی ڈیم پہلے بھی ناکام ہو اتھا اور موجودہ شدید بارش کے دوران دوبارہ ناکامی کے نتیجے میں پانی کے اچانک اخراج سے نچلے علاقوں میں مقامی آبادی، رہائشی مکانات اور زرعی فصلوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ واقعہ کی تفصیلی جانچ، نقصانات کے تخمینے اور منی ڈیم کی ناکامی کی ساختی و تکنیکی وجوہات کے تعین کے لیے معاملہ متعلقہ حکام کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے۔