نظرثانی درخواست دوبارہ جمع کرا دی ، اب حتمی فیصلے کا انتظار ہے ، رانا ثنااللہ
عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں ، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا ریلیف قانون کے مطابق نہیں تھا، جس کے خلاف حکومت دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں ۔ حکومت نے دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے اور توقع ہے کہ اس پر آج یا کل فیصلہ آ جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست پر فیصلہ آنے دیا جائے، اس کے بعد صورتِ حال مزید واضح ہو جائے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے ماتحت عدالتوں پر لازم ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول حکومت کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے فوجداری نظامِ انصاف پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پھر ہر قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟ اس طرح ایک ہزار درخواست آ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بصورتِ دیگر ماتحت عدالتوں کے لیے ایسی درخواستوں کو مسترد کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔