‘اپنی گھڑیوں کی حفاظت خود کریں’، شفا اسپتال کے بورڈ پر شرانگیز نوٹس آویزاں

شفا ہسپتال اسلام آباد کے نوٹس بورڈ پر 'گھڑی کی حفاظت' کا جملہ وائرل، طبی ادارے میں سیاسی طنز یا بلاجواز تنازع؟

August 20, 2026 · قومی, ویڈیوز
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد کے معروف شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بورڈ پر آویزاں ایک نوٹس کی تصویر سوشل میڈیا پر شدید بحث اور تنقید کا مرکز بن گئی ہے۔

بورڈ پر تحریر کردہ جملے “اپنی گھڑیوں کی حفاظت خود کریں” کو سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایک سرکردہ سیاسی رہنما اور مخالفین کے درمیان جاری سیاسی بیانیے اور الزام تراشی سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایک زیرِ علاج اور صاحبِ فراش سیاسی رہنماء کو علاج کے لیے مذکورہ ہسپتال منتقل کیے جانے کی خبریں گردش میں ہیں۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اسے ایک بیمار اور زیرِ علاج سیاسی حریف کے خلاف توہین آمیز اور بھونڈے طنز سے تعبیر کر رہی ہے، جبکہ بعض افراد اسے طبی ادارے کی جانب سے بلاجواز سیاسی مہم جوئی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے عوامی و سماجی حلقوں اور معزز شہریوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہسپتال اور دیگر عوامی و طبی ادارے مکمل طور پر غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہونے چاہئیں۔ ایسے اداروں کو کسی بھی قسم کی سیاسی محاذ آرائی یا بیانیے کا میدان بنانا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔

کسی شخص خصوصاً جو شدید بیماری کی حالت میں زیرِ علاج ہو اور عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر منتقل کیا جا رہا ہو، اس کے خلاف اس نوعیت کی طنز یا چوٹ کرنا نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہے بلکہ انسانی رحم دلی کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

عوامی اور حساس اداروں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے عام شہریوں کا ان اداروں پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔

دوسری جانب، انتظامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہسپتالوں میں چوری سے خبردار کرنے کے لیے عام طور پر اس نوعیت کے نوٹس لگائے جاتے ہیں، تاہم حساس سیاسی ماحول میں ایسے الفاظ کا استعمال غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتا ہے۔

اس حوالے سے شہریوں کی اکثریت نے زور دیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو فوری طور پر وضاحت جاری کرنی چاہیے اور عوامی و طبی اداروں کو ہر قسم کے سیاسی اثرات اور طنز و مزاح سے پاک رکھا جانا چاہیے تاکہ ہسپتالوں کا بنیادی مقصد یعنی “غیر جانبدارانہ اور بلا تفریق علاج” برقرار رہے۔