میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن قائم،جسٹس عمر سیال سربراہ مقرر

کمیشن قتل کیس کی تحقیقات کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ تحقیقات کے عمل اور سامنے آنے والے حقائق کا بھی جائزہ لے گا۔

August 24, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کو کمیشن کا سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن کی تشکیل سندھ ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت کی گئی ہے۔ کمیشن قتل کیس کی تحقیقات کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ تحقیقات کے عمل اور سامنے آنے والے حقائق کا بھی جائزہ لے گا۔

میر رضا علی کے اہلخانہ کی جانب سے کیس کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کیس کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست دائر کی ہے۔

درخواست کی سماعت جسٹس عدنان الکریم میمن نے چیمبر میں کی۔ عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست تک جواب طلب کرلیا ہے۔ درخواست میں سندھ حکومت اور مختلف متعلقہ اداروں سمیت 19 افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز اور کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے ارکان کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق معلومات خاندان کو میڈیا کے ذریعے ملیں۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے پر جوڈیشل کمیشن بننے سے کیس کی تفتیش متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو عدالت میں چالان کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کیس کی مؤثر تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے میر رضا علی کی گولی لگی لاش ملی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات شروع کی تھیں، تاہم اہلخانہ کی جانب سے تفتیش کے طریقہ کار پر تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔

اب جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور اہلخانہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے مطالبے کے بعد کیس کی تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔