غزہ سے آنے والی پتنگیں بھی اسرائیلی فوج کیلئے جنگی ہتھیار بن گئیں
غزہ سے آنے والی پتنگوں کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر دیکھا جائے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی فوج کو ہدایت
فوٹو فائل
غزہ سے اسرائیلی حدود کی جانب پتنگوں، غباروں اور ڈرونز بھیجے جانے کے دعووں کے بعد اسرائیلی حکومت نے فوج کو کارروائیوں میں مزید سختی کی ہدایت کی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ غزہ سے آنے والی پتنگوں کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر دیکھا جائے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ سے مبینہ طور پر پتنگیں، غبارے اور ڈرونز اسرائیلی علاقے کی جانب بھیجے جانے کے واقعات کو بنیاد بناتے ہوئے مزید فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ غزہ سے آنے والی چار پتنگوں میں کسی قسم کا دھماکا خیز یا مشتبہ مواد موجود نہیں تھا۔
اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں بڑھانے اور بعض رہائشی علاقوں سے فلسطینی آبادی کے انخلا کے احکامات جاری کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
حماس نے اسرائیلی مؤقف کو مزید فوجی کارروائیوں کے لیے جواز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ بے گھر فلسطینی بچوں کی جانب سے اڑائی جانے والی پتنگوں کو بنیاد بنا کر غزہ کے رہائشیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صورتحال کے باعث غزہ میں پہلے سے جاری کشیدگی اور انسانی بحران میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔