امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کو غیر قانونی تارکین وطن تیسرے ملک بھیجنے کی اجازت کا فیصلہ
اہم عدالتی فیصلہ، عارضی اجازت دے دی گئی، حتمی سماعت دسمبر میں ہوگی۔
امریکی سپریم کورٹ کا بیرونی منظر اور امیগ্রেশন پالیسی سے متعلق علامتی تصویر
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ممالک میں بھیجنے کی پالیسی عارضی طور پر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد ٹفاوت اور جبری بیدخلی کے امور پر عمل درآمد کرنے والی انتظامیہ کو تارکین کو کسی تیسرے ملک میں ڈی پورٹ کرنے کے لیے اہم قانونی برتری حاصل ہو گئی ہے۔
رپورٹس اور ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ممالک میں بھیجنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جن میں کوسٹاریکا بھی امریکی معاہدے کے تحت تارکین وطن کو قبول کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ دستاویزی اور عدالتی اعداد و شمار کے مطابق اس پالیسی کے تحت اب تک 25 ہزار سے زائد تارکین وطن کو 29 ممالک میں بھیجا جا چکا ہے، جن میں میکسیکو بھی شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس ایک صفحے پر مشتمل ہنگامی حکم نامے پر کسی جج کے دستخط نہیں ہیں اور نہ ہی اس معاملے پر باقاعدہ ووٹنگ کی گئی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس کیس کی حتمی سماعت دسمبر میں کی جائے گی، جس کے بعد اس پالیسی کی قانونی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ برس جاری ہوگا۔ دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وکیل نے اس عدالتی حکم نامے کو ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔ دریں اثنا، جبری بیدخلی کے اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے 5000 نئے افراد کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔