رواں سال خلیجی ممالک سے 21 ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ
15 ہزار 495 پاکستانی شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 3 ہزار 803، عمان سے ایک ہزار 606، بحرین سے 521، قطر سے 429 پاکستانیوں کو بیدخل کیا گیا۔ رپورٹ
فوٹو مقامی میڈیا
اسلام آباد: خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو مختلف قانونی اور ڈسپلن کی خلاف ورزیوں پر ڈی پورٹ کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ سنسنی خیز انکشاف قومی اسمبلی میں رکن اسمبلی حمید حسین کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں پیش کی گئی تحریری رپورٹ میں سامنے آیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے 13 جولائی 2026ء کے دوران بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا، سب سے زیادہ 15 ہزار 495 پاکستانی شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 3 ہزار 803، عمان سے ایک ہزار 606، بحرین سے 521، قطر سے 429 اور کویت سے 97 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جواب سے معلوم ہوا ہے کہ 6 ہزار 662 پاکستانی شہریوں کو دیگر وجوہات کے زمرے میں ڈی پورٹ کیا گیا، تاہم وزارت کی جانب سے اس کیٹیگری میں شامل مخصوص وجوہات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس کے علاوہ 4 ہزار 628 پاکستانی شہریوں کو مفرور قرار دیئے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں سعودی عرب سے 3 ہزار 921 اور متحدہ عرب امارات سے 636 شہری شامل ہیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ 2 ہزار 811 پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی داخلے یا قیام کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا، ایک ہزار 294 افراد جیل جانے کے بعد ڈی پورٹ ہوئے، اسی طرح ایک ہزار 155 پاکستانی شہریوں کے ڈی پورٹیشن کیسز گمشدہ پاسپورٹس سے متعلق تھے، 968 افراد کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد ملک بدر کیا گیا، منشیات سے متعلق مقدمات یا الزامات کے تحت بھی 728 پاکستانی شہریوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں سعودی عرب سے 450 اور متحدہ عرب امارات سے 190 افراد شامل ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ڈی پورٹیشن کی سب سے بڑی وجہ 6,662 افراد کا “دیگر وجوہات” کے زمرے میں آنا ہے، تاہم ان کی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس کے بعد 4,628 افراد کو مفرور قرار دیے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 3,921 کا تعلق سعودی عرب اور 636 کا امارات سے ہے۔
مزید برآں زائد المیعاد ویزا و اقامہ پر 387، داخلے سے انکار پر 342، اور چوری کے الزامات میں 125 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ جبکہ جعل سازی پر 16 اور انٹرپول کے ذریعے 9 افراد کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل کیا گیا۔ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں قوانین کی عدم پاسداری اور مفروری کے باعث اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔