سرحد یونیورسٹی میں کیا ہوا- کرنل اسفند یار کی اہلیہ اور جدون ایڈووکیٹ میں کیا جھگڑا تھا

ہیلتھ سائنسز کے سربراہ سے انتظامی اختیارات لے کر ڈاکٹر عینہ کو دیئے گئے تھے، اہلیہ کی کال پر کرنل ڈیوٹی سے وہاں پہنچے

August 24, 2026 · امت خاص
کرنل اسفند یار کو طلبہ نے گھیر رکھا ہے، دوسری طرف ان کی فائرنگ کرتے ہوئے تصویر

کرنل اسفند یار کو طلبہ نے گھیر رکھا ہے، دوسری طرف ان کی فائرنگ کرتے ہوئے تصویر

اسلام آباد میں روات کے علاقے میں قائم سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کیمپس میں لیفٹیننٹ کرنل کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعے کی کچھ تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ کیمپس کی اندرونی سیاست نے خطرناک رخ لے لیا جس میں لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار کا ملوث ہونا طاقت کا غلط استعمال تھا یا اپنی بیوی کی عزت بچانے کی کوشش اس پر دو متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

سرحد یونیورسٹی میں پیر کو پیدا ہونے والی صورتحال کا تعلق کئی ہفتوں سے جاری تنازعے سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کی انتظامیہ نے شعبہ ہیلتھ سائنسز کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ کو طلبہ کے انتظامی اختیارات سے متعلق کافی اختیارات دے رکھے تھے جن کا تعلق فیسوں کی وصولی اور ٹرانسپورٹ کے انتظام سے تھا۔

تاہم کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی میں ڈاکٹر عینہ کا تقرر ہوا جو بتایا جاتا ہے کہ منیجمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اختیارات جدون ایڈووکیٹ سے لے کر عینہ کو دے دیئے۔ وہ عینہ ایچ آر کی سربراہ تھیں لیکن انہیں اسٹوڈنٹ افیئرز کی انچارج بھی بنا دیا گیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ جدون ایڈووکیٹ طلباء کی فیسز معاف کردیتے تھے یا رعایت دے دیتے تھے اور ٹرانسپورٹ فیس کی ادائیگی بھی معاف کر دیتے تھے، جب عینہ نے چارج سنبھالا تو یہ سلسلہ بند یا کم ہوگیا۔

ٹرانسپورٹ کا کردار اس لیے اہم ہے کیونکہ نرسنگ کے طلبہ کو تربیت کے لیے مختلف اسپتالوں میں جانا پڑتا تھا اور بسوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔

اس صورت حال میں جمعہ کو ڈاکٹر جدون اور ڈاکٹر عینہ میں تلخ کلامی ہوئی اور بات تھانے تک پہنچ گئی۔

صحافی عمر چیمہ کے مطابق خاتون نے ون فائیو پر کال کردی جس کے بعد دونوں کو تھانے میں بلایا گیا، لیکن وہاں یونیورسٹی نے ڈاکٹر عینہ سے ایف آئی آر درج نہ کرانے کیلئے کہا اور معاملہ وہاں ختم ہوگیا، تاہم بعد میں ڈاکٹر عینہ نے یونیورسٹی میں کسی سے کہا کہ ڈاکٹر جدون نے ان سے معافی مانگی ہے اس لیے انہوں نے ایف آئی آر درج نہیں کرائی۔ یہ بات یونیورسٹی میں پھیلا دی گئی کہ جدون صاحب نے کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ سےمعافی مانگی ہے۔ اس بات پر جدون صاحب آگ بگولہ ہوگئے۔

اس پورے تنازعے میں طلبہ کی ہمدریاں ڈاکٹر جدون ایڈووکیٹ کے ساتھ تھیں۔ جب معافی والی بات پھیلی تو جدون ایڈووکیٹ نے اپنے ہمدرد طلبہ کو انہیں یونیورسٹی سے فارغ کیا جارہا ہے اس پر طلباء نے پیر کو احتجاج کی کال دی اور یونیورسٹی کا گیٹ بندکر دیا، طلبہ کا پرچہ منسوخ کر دیا گیا۔

عمر چیمہ اور صحافی شہروز اظہر کے مطابق پیر کے روز طلبہ جب احتجاج کررہے تھے تو ڈاکٹر عینہ یونیورسٹی پہنچیں، اس دوران تلخ کلامی ہوئی، خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو کال کی۔

عمر چیمہ کے مطابق کرنل اسفند یار اس وقت اپنی ڈیوٹی پر تھے اور اسی وجہ سے یونیفارم پہن کر بیٹھے ہوئے تھے، ’میاں صاحب جب آئے تو انہوں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا‘ ان کی طلبہ سے تلخ کلامی ہوئی اور کرنل نے ’لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کردی جس کی آواز پوری دنیا میں سنی گئی، انڈین میڈیا اس پر رپورٹ کر رہا ہے۔‘

واقعے کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل اسفندیار پہلے ایک طالب علم کو اپنی اسٹک سے مارتے ہیں، اس دوران دیگر طلبہ سے ان کی تلخ کلامی ہوتی ہے اور جلد ہی طلبہ انہیں گھیر لیتے ہیں، ان کی وردی پر ہاتھ ڈال دیا جاتا ہے، ایک طالب علم کرنل اسفند یار پر ڈنڈا بھی برساتا ہے۔ اس ہجوم میں کرنل اسفند یار اپنی کمر سے بندھی پستول نکال کر پہلے سامنے تان لیتے ہیں اور پھر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے کئی اہلکار اس موقع پر موجود ہیں جو کرنل کو روک رہے ہیں۔ ہوائی فائرنگ پر طلبہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

اس کے بعد کے معاملات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کرنل اسفند یار کچھ دیر یونیورسٹی کے اندر موجود تھے، انہیں وہیں سے پاک فوج کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان کے خلاف انکوائری کے احکامات بھی دے دیئے گئے۔

ایک ویڈیو میں ایک طالبہ کہہ رہی ہے کہ جب تک کوئی بڑا نہیں آئے گا ہم اس فوجی افسر کو یہاں سے نہیں جانے دیں گے۔

سوشل میڈیا پر اینکر پرسن غریدہ فاروقی سمیت کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرنل اسفند یار نے اپنی بیوی کی عزت بچانے کیلئے مداخلت کی اور ان کے خلاف کارروائی غلط ہے جب کہ کچھ لوگ ان کے فعل کو غلط قرار دے رہے ہیں۔

عزت پر ہاتھ ڈالنے والی بات کے حوالے سے کچھ صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ کرنل اسفند یار جب یونیورسٹی پہنچے تو ڈاکٹر عینہ ان کے پاس گئیں اور روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ وائرل ویڈیو کے شروع میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل اسفند یار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑے طلبہ کے درمیان سے گزر کر پیچھے کھٖڑے ایک طلب علم تک جاتے ہیں اور اسے مارنا شروع کر دیتے ہیں، ڈاکٹر عینہ انہیں روکتی ہے۔ اس دوران ایک اور طالب علم کہتا ہے کیوں مار رہے ہوں، اسفند یار اس سے الجھ جاتے ہیں اور پھر تمام طلبہ ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

سرحد یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس پشاور میں ہے۔ جب کہ اسلام آباد کیمپس میں زیرتعلیم بیشتر طلبہ کا تعلق بھی خیبرپختونخوا سے ہے۔ غریدہ فاروقی کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کا تعلق چارسدہ سے ہے۔