آگ لگنے کے بعد دھماکہ ہوا جس سے چھتیں گر گئیں، 5 بچے بچائے، پمز

نرسری کے اندر صبح 6:38 بجے چنگاری سے آگ لگی، آکسیجن پوائنٹس کے باعث شدید اختیار کرگئی، ابتدائی رپورٹ

August 26, 2026 · اہم خبریں
ریسکیو اہلکار سیڑھی سے اوپر کی منزل پر جا رہے ہیں

ریسکیو اہلکار سیڑھی سے اوپر کی منزل پر جا رہے ہیں

اسلام آباد(افضل شاہ یوسفزئی )پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں نومولود بچوں کی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا

پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نرسری کے اندر صبح 6:38 بجے چنگاری سے آگ لگی، جو چند ہی سیکنڈز میں ہر انکیوبیٹر تک موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث شدت اختیار کرگئی

ترجمان کے مطابق نرسری میں موجود ڈیوٹی پر مامور دو ڈاکٹروں اور دو نرسوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیکیورٹی عملے کو اطلاع دی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے بھی موقع پر پہنچ کر بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی اور دو مرتبہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی

بیان کے مطابق صبح 6:39 بجے ایک زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں چھتیں گر گئیں۔ ڈیوٹی پر موجود عملے نے نرسری سے ایک نومولود جبکہ ملحقہ کمرے سے چار بچوں اور تین ماؤں کو بحفاظت نکال لیا۔

پمز ترجمان کے مطابق اسی دوران عملے نے چند ہی منٹوں میں اسی منزل پر واقع ملحقہ گائنی وارڈ میں زیرِ علاج مزید 73 مریضوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے اسپتال میں نصب فائر سیفٹی آلات استعمال کیے گئے، جن میں موجود 35 فائر ایکسٹنگوشرز بھی شامل تھے۔ پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام ایمرجنسی ایگزٹس کھلے اور فعال تھے

پمز انتظامیہ نے نومولود بچوں کی اموات پر گہرے دکھ اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر انسانی جان قیمتی ہے اور ہر نومولود امید اور مستقبل کی علامت ہوتا ہے

ترجمان کے مطابق واقعے کی مختلف فورمز پر شفاف تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار ہے

پمز انتظامیہ نے واقعے کے دوران فوری ردعمل دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر ہنگامی عملے کی کوششوں کو بھی سراہا، جن کی بروقت کارروائی سے مزید جانی و مالی نقصان کو روکا گیا۔