مصطفیٰ کمال کا دعویٰ جھوٹ نکلا-عمارت صرف 3 برس پرانی
وفاقی وزیر صحت کی آمد پر لواحقین کا شدید احتجاج، پریس کانفرنس چھوڑ کر جانے پر مجبور
ریسکیو اہلکار سیڑھی سے اوپر کی منزل پر جا رہے ہیں
پمز سانحے کے بعد وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس شدید احتجاج کی نذر ہوگئی، جہاں متاثرہ خاندانوں اور لواحقین نے نعرے بازی کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے 16 گھنٹے بعد وزیر کی جائے وقوعہ پر آمد حکومتی بے حسی اور انتظامی غفلت کی عکاس ہے۔
احتجاج کے دوران لواحقین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ جب سب کچھ تباہ ہوگیا تو حکومت کو واقعے کا خیال آیا۔
۔
وفاقی وزیر نے جیو نیوز کو انٹروے دیتے ہوئے کہا تھا کہ پمز کو 1985 میں تعمیر شدہ پرانا اسپتال قرار دے رہے ہیں۔
امت ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق جس بچوں کے اسپتال کی عمارت میں یہ واقعہ پیش آیا، وہ 1985 کی نہیں بلکہ 2023 میں جاپان کے تعاون سے 32 ملین ڈالر کی لاگت سے قائم کی گئی تھی۔
جب امت ڈیجیٹل نے مصطفیٰ کمال کے سامنے یہ تحقیقی حقائق رکھے، تو وہ اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور بات گول کر گئے۔
وفاقی وزیر صحافیوں کے سوالات اور لواحقین کے شدید احتجاج کا سامنا کرتے رہے۔ صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے بعد وفاقی وزیر پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔
لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔