ملک کے سیاسی نظام اور فوج کے کردار پر امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا اہم بیان
چیف آف ڈیفنس فورسز اب کابینہ میں بیٹھیں گے، اپوزیشن کو واک آؤٹ سے پہلے اپنا نقطہ بیان کرنا چاہیے تھا،جوائنٹ اپوزیشن کے اجلاس سے خطاب
مولانا فضل الرحمن مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
** امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے جوائنٹ اپوزیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ترمیم ہوئی ہے، ہم آپس میں بیٹھے ہیں اور میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے واک آؤٹ تو کیا، لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا۔ اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے۔ اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ آتا تو پھر ہم نکل کر واک آؤٹ کرتے، لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی۔**
انہوں نے کہا کہ وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کے
سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کو حوالے سے کردار دیں، تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے۔ ہم اتا ترکی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے، اور آج اس قانون کے ذریعے ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ میں درخواست کروں گا بیرسٹر گوہر، علی ظفر صاحب سے بھی اور کامران صاحب سے بھی، کہ یہ آپس میں بیٹھیں اور ان چیزوں کو ڈسکس کریں کہ کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کے اختیارات تھے، فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایک اختیارات تھے، جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں ردوبدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا یا کسی کی ملازمت میں معاملہ ہو، یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے، وہ آج چیف آف ڈیفنس فورسز کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے، ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنٹ میں بیٹھے گا۔ اب فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، اور وہ کیبنٹ میں بیٹھا ہو، تو آپ بتائیں کہ فیصلے کون کرے گا؟ کیا فیصلہ شریف صاحب کرے گا یا اس کی کابینہ کرے گی؟