آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مزید سستا

برینٹ کروڈ کی قیمت 41 سینٹ، یعنی تقریباً 0.5 فیصد کمی کے بعد 87.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئی

August 27, 2026 · کامرس
فائل فوٹو

فائل فوٹو

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہوں گی۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 41 سینٹ، یعنی تقریباً 0.5 فیصد کمی کے بعد 87.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹ کی کمی کے بعد 81.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ برینٹ کی قیمت میں مسلسل چوتھے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں پانچویں روز کمی ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور معمول کے حالات میں عالمی تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے توانائی کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔

اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات میں بہتری نے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے، تاہم مارکیٹ میں سپلائی کی قلت کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

دوسری جانب قطر کے وزیراعظم کے ایران کے دورے اور سفارتی مذاکرات کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے۔ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی سے سرمایہ کاروں کو خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام تنازع کا ایک اہم مرکز ہے اور اس مسئلے کا فوری حل آسان نظر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ساتھ روس اور یوکرین جنگ نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ خطے میں بعض ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے جبکہ یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روسی ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی ڈیزل سپلائی میں کمی آئی ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکہ میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 22 لاکھ بیرل کم ہو کر تقریباً 10 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گئے۔

ماہرین کے مطابق ایندھن کے کم ہوتے ذخائر اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں جاری تنازعات کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔