پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں علاقائی کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور فوجی محاذ آرائی کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان برادر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں علاقائی کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خطے کے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے بھی مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ ان رابطوں میں دوطرفہ امور کے علاوہ خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ سے 17، 19 اور 25 اگست کو تین مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بات چیت میں خطے میں امن کے قیام اور مذاکرات و سفارت کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے نزدیک موجودہ علاقائی مسائل کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے، اسی لیے اسلام آباد اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایرانی قیادت نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی ایک سالہ چیئرمین شپ سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے اور آئندہ سال ایس سی او سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بشکیک میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس میں شرکت کریں گے، جہاں ان کی مختلف رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ وزیراعظم کی کرغزستان کی قیادت سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔