داتا دربار کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیاں، اعلیٰ سطح کی انکوائری شروع

ڈالرز کو بھارتی کرنسی میں تبدیل کرکے چندے کی رقم میں مبینہ خردبرد کی گئی۔

August 27, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور: محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کے زیر انتظام داتا دربار کے چندے کے حوالے سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق داتا دربار میں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں جمع ہونے والے چندے کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا اور ڈالرز کو بھارتی کرنسی میں تبدیل کرکے چندے کی رقم میں مبینہ خردبرد کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ٹمپرنگ کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے بعد معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران داتا دربار کے چندے سے متعلق ریکارڈ میں مبینہ تبدیلیاں کرکے مالی بے ضابطگیاں کی گئیں۔

محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل اور سابق مینیجر طاہر مقصود کے خلاف بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

اسی طرح زونل ایڈمنسٹریٹر گلاب ارشاد اور شاہد حمید ورک کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور چندے سے متعلق بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آسکے۔

سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ معاملے کی انکوائری جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ زائرین کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم کے ریکارڈ میں مبینہ ٹمپرنگ کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق انکوائری کے ذریعے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے گا اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔