بیرسٹر افتخار گیلانی، قانون سے وزارتِ تعلیم اور وزارتِ عظمیٰ تک، ایک شخصیت، ایک سفر، ایک امتحان
مظفرآباد کی مٹی سے اٹھنے والی ایک سیاسی داستان
افتخار گیلانی کی زندگی کے مختلف لمحے
تحریر جاوید چوہدری
کچھ سیاسی سفر محض انتخابی کامیابیوں، عہدوں اور اقتدار کی راہداریوں سے عبارت نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے خاندانوں کی سیاسی روایات، نسلوں کی محنت، تعلیم، تجربہ، نظریاتی وابستگی اور وقت کے بدلتے ہوئے سیاسی موسموں سے نبردآزما ہونے کی ایک طویل داستان موجود ہوتی ہے۔ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا سیاسی سفر بھی آزاد کشمیر کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک ایسے ہی سفر کے طور پر سامنے آتا ہے۔
مظفرآباد کی سیاسی فضا میں پرورش پانے والے بیرسٹر افتخار گیلانی نے قانون کی تعلیم حاصل کی، وکالت کے میدان میں عملی تجربہ حاصل کیا، پھر سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور 2011 اور 2016 میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 کے بعد انہیں وزیر تعلیم کی ذمہ داری ملی اور پانچ سالہ حکومتی دور میں محکمہ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے ان کا نام سامنے آیا۔ 2026 کے عام انتخابات میں براہِ راست نشست پر شکست کے بعد مخصوص نشستوں کے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے امیدوار بنایا اور 24 اگست کو وہ 26 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔
یہاں کہانی ختم نہیں ہوئی؛ بلکہ شاید اصل سیاسی باب یہیں سے شروع ہوا۔26 اگست 2026 کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے انہیں وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار کے طور پر نامزد کردیا۔ یوں ایک ایسا سیاست دان جو چند ہی ہفتے قبل عام نشست پر انتخابی شکست سے دوچار ہوا تھا، دوبارہ اسمبلی میں واپس آیا اور پھر ریاست کے سب سے بڑے انتظامی منصب کی دوڑ میں سب سے نمایاں ناموں میں شامل ہوگیا۔
یہ سفر اپنے اندر آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست کے کئی رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔قانون کی دنیا سے سیاسی میدان تک
بیرسٹر افتخار گیلانی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا قانونی پس منظر ہے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کیا اور وہاں سے بار ایٹ لا کی تعلیم مکمل کی۔ وطن واپسی کے بعد تقریباً ایک دہائی تک اسلام آباد میں وکالت سے وابستہ رہے۔
بیرسٹری کو لندن کے تاریخی ادارے لنکنز اِن سے مکمل کی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کے ساتھ عملی قانونی تجربے کا بھی شرف حاصل کیا۔
قانون کی تعلیم کسی بھی سیاست دان کے لیے محض ایک تعلیمی سند نہیں ہوتی۔ آئین، پارلیمان، ریاستی اختیارات، بنیادی حقوق، حکومتی ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی حدود کو سمجھنے کے لیے قانونی تربیت ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اور آزاد کشمیر کی سیاست میں قانون کی اہمیت شاید پاکستان کے کسی عام صوبے سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ یہاں سیاست صرف ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ انتظامی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ریاستی تشخص، آئینی بندوبست، پاکستان سے تعلق، کشمیر کاز اور عوامی حقوق جیسے حساس موضوعات بھی سیاسی گفتگو کا مستقل حصہ ہیں۔اس اعتبار سے ایک تربیت یافتہ قانون دان کا سیاست میں آنا محض ذاتی پیشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ قانونی شعور کو سیاسی اور ریاستی فیصلہ سازی کے میدان میں منتقل کرنا بھی ہے۔بیرسٹر افتخار گیلانی نے 2011 کے آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے انتخابی اتحاد کے سیاسی مقابلے کا سامنا تھا، لیکن وہ کامیاب ہوکر اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
یہ کامیابی ان کے لیے محض ایک نشست کا حصول نہیں تھی بلکہ عملی سیاست میں ان کے مستقبل کی بنیاد تھی۔سیاست میں پہلی کامیابی کسی بھی رہنما کے لیے ایک دروازہ کھولتی ہے، مگر اس دروازے سے گزرنے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ عوامی نمائندگی کا مطلب حلقے کے مسائل کو ایوان تک پہنچانا، قانون سازی میں حصہ لینا، حکومت اور اپوزیشن کے کردار کو سمجھنا اور سیاسی جماعت کے اجتماعی فیصلوں کے ساتھ چلنا ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے اسی دور میں پارلیمانی سیاست کے عملی تقاضوں کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔
2016 کے عام انتخابات نے ان کے سیاسی سفر کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں انہوں نے خواجہ فاروق احمد کو شکست دی۔
مسلسل دوسری انتخابی کامیابی کسی بھی سیاست دان کے لیے عوامی اعتماد کی علامت سمجھی جاتی ہے، اگرچہ ہر انتخاب اپنے مخصوص سیاسی، سماجی اور مقامی عوامل رکھتا ہے۔
2016 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی اور بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی۔
یہ ان کے سیاسی سفر کا شاید سب سے اہم انتظامی باب تھا۔وزارتِ تعلیم کسی بھی حکومت کا ایسا شعبہ ہے جس کے فیصلوں کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے، مگر ان کے نتائج کئی دہائیوں تک نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔
ایک سڑک پانچ سال میں بن سکتی ہے، ایک عمارت چند ماہ میں تعمیر ہوسکتی ہے، مگر ایک بچے کی تعلیم اور شخصیت سازی کا نتیجہ کئی برس بعد سامنے آتا ہے۔بیرسٹر افتخار گیلانی کے دورِ وزارتِ تعلیم میں محکمہ تعلیم میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس، یعنی NTS، کے ذریعے بھرتیوں کے نظام کو متعارف کرانے کا ذکر متعدد رپورٹس میں ملتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینا بتایا گیا۔یہ اقدام اس لیے اہم تھا کہ آزاد کشمیر جیسے خطے میں جہاں سرکاری ملازمت نوجوانوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے، بھرتی کا نظام براہِ راست نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ایک نوجوان جس نے برسوں محنت کرکے تعلیم حاصل کی ہو، اگر اسے یہ یقین ہو کہ ملازمت صرف سفارش یا سیاسی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلیت کی بنیاد پر حاصل ہوسکتی ہے تو اس کا ریاستی اداروں پر اعتماد بڑھتا ہے۔اسی لیے میرٹ محض ایک انتظامی اصطلاح نہیں؛ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے۔2016 میں وزیر تعلیم کی حیثیت سے ایک سرکاری اسکول کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھی بیرسٹر افتخار گیلانی کی شرکت اور محکمہ تعلیم کی خرابیوں کو دور کرنے کے عزم کو اج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ان کے حامیوں سمیت عام عوام کے نزدیک وزارتِ تعلیم کا یہی دور ان کے سیاسی پروفائل کا اہم ترین انتظامی حوالہ ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں میں سرکاری ملازمتوں کا مسئلہ ہمیشہ سیاسی بحث کا مرکز رہا ہے۔ سفارش، اقربا پروری اور سیاسی مداخلت کے الزامات نے کئی دہائیوں سے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔اس پس منظر میں امتحانی اور ٹیسٹنگ نظام کی طرف منتقلی کو میرٹ کے ادارہ جاتی تصور سے جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی اصلاح کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے طویل المدتی نتائج سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کے دورِ وزارت کا غیر جانب دارانہ جائزہ اس بات کو سامنے لا سکتا ہے کہ بھرتی کے نظام میں یہ تبدیلی کس حد تک مؤثر، شفاف اور پائیدار ثابت ہوئی۔ایک صحافتی مضمون کا کام صرف تعریف کرنا نہیں بلکہ سوال اٹھانا بھی ہے۔اور یہی وہ سوال ہے جو مستقبل کی حکومت کے سامنے بھی کھڑا ہوگا۔کیا میرٹ کو ایک محکمہ تک محدود رکھا جائے گا یا اسے پورے ریاستی نظامِ حکومت کی بنیاد بنایا جائے گا؟2021 کے بعد سیاسی منظرنامہ
2016 سے 2021 تک کی حکومت میں وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں اقتدار کی گردش، جماعتی صف بندیوں اور انتخابی مقابلوں نے سیاسی منظرنامہ مسلسل تبدیل کیا۔2026 کے انتخابات میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن اس مرتبہ انتخابی نتیجہ ان کے حق میں نہیں آیا۔ انہوں نے ایل اے 29 مظفرآباد-III سے انتخاب لڑا مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے شکست کھائی۔
سیاسی زندگی میں شکست بھی ایک استاد ہوتی ہے۔وہ سیاست دان جو صرف فتح کے موسم کا مسافر ہو، وہ عوامی سیاست کی مکمل حقیقت سے واقف نہیں ہوسکتا۔ کامیابی انسان کو حوصلہ دیتی ہے، مگر شکست انسان کو اپنے سیاسی سفر، حکمت عملی، تنظیم اور عوامی رابطے پر دوبارہ غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے 2026 کی براہِ راست انتخابی شکست شاید اسی سیاسی تجربے کا ایک نیا باب تھی۔مگر سیاست میں بعض اوقات ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔
2026 کے مخصوص نشستوں کے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا۔
24 اگست 2026 کو ہونے والے انتخاب میں انہوں نے 26 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی نے 12 ووٹ حاصل کیے۔ یوں بیرسٹر افتخار گیلانی دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔یہ نتیجہ اپنی جگہ آزاد کشمیر کی موجودہ پارلیمانی سیاست کا ایک دلچسپ باب ہے۔
ایک شخص عام نشست پر عوامی مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکا، مگر مخصوص ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپس آیا۔
یہاں ٹیکنوکریٹ نشست کی آئینی روح بھی اہم ہے۔اس نوعیت کی نشست کا مقصد ایسے افراد کو قانون ساز ادارے میں لانا ہے جو کسی پیشہ ورانہ، علمی یا فنی میدان میں مہارت رکھتے ہوں۔بیرسٹر افتخار گیلانی کے معاملے میں قانون کی تعلیم، وکالت کا تجربہ، سابقہ وزارت، دو مرتبہ اسمبلی رکنیت اور سیاسی تجربہ اس نشست کے تناظر میں قابلِ بحث عوامل ہیں۔ٹیکنوکریٹ نشست پر کامیابی کے صرف دو دن بعد سیاسی منظرنامے نے ایک اور ڈرامائی موڑ لیا۔26 اگست کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار کے طور پر نامزد کردیا۔ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت میں وفاقی اور آزاد کشمیر کی مسلم لیگ (ن) کی اہم قیادت شریک تھی۔یہ نامزدگی سیاسی اعتبار سے غیر معمولی تھی۔ایک طرف عام انتخابات میں براہِ راست نشست پر شکست، دوسری جانب مخصوص نشست پر کامیابی، اور پھر وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی۔
یہ پورا سفر محض چند ہفتوں میں مکمل ہوا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی آئینی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پارٹی کی نامزدگی اور وزیراعظم کا حتمی انتخاب دو الگ مراحل ہیں۔ وزیراعظم کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے ہونا ہے۔ دستیاب حالیہ اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لیے اسمبلی کا اجلاس 28 اگست کو ہونا ہے۔سیاست میں اختلاف بھی جمہوریت کا حصہ ہوتا ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اندر بعض سینئر رہنماؤں کے تحفظات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
سیاسی اختلاف کو پارٹی ٹوٹنے یا بغاوت کا نام دینا درست نہیں جب تک متعلقہ فریق خود اس کی تصدیق نہ کرے۔جمہوریت میں ایک جماعت کے اندر مختلف آراء کا ہونا غیر معمولی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ اختلاف کو ادارہ جاتی اور جمہوری طریقے سے کیسے حل کیا جاتا ہے۔اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں نئی حکومت قائم کرتی ہے تو پارٹی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف حکومت بنانا نہیں بلکہ حکومت کو متحد رکھنا بھی ہوگا۔بیرسٹر افتخار گیلانی کے سامنے اصل امتحان ہی یہی ہے۔اگر بیرسٹر افتخار گیلانی وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں تو ان کے سامنے صرف سیاسی انتظام نہیں بلکہ ریاستی انتظام کا ایک انتہائی پیچیدہ مرحلہ ہوگا۔آزاد کشمیر اس وقت کئی بڑے مسائل سے دوچار ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار۔
تعلیم کا معیار۔
صحت کی سہولیات۔
بجلی اور توانائی۔
پانی۔
سیاحت۔
شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کی حالت۔
قدرتی آفات۔
لینڈ سلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کے خطرات۔
ماحولیاتی تحفظ۔
سرکاری اداروں کی کارکردگی۔
اور سب سے بڑھ کر میرٹ اور شفافیت۔
یہ وہ مسائل ہیں جنہیں تقریروں سے نہیں بلکہ پالیسی، بجٹ، ادارہ جاتی اصلاحات اور مسلسل نگرانی سے حل کرنا ہوگا۔تعلیم کا سابق وزیر اور نئی نسل کا سوال کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے تعلیم کا شعبہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ خود سابق وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔
آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو آج صرف روایتی ڈگریاں نہیں چاہئیں۔انہیں جدید ہنر چاہیے۔
ڈیجیٹل تعلیم چاہیے۔ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ چاہیے۔
آن لائن روزگار کے مواقع چاہئیں۔انگلش اور جدید علوم کے ساتھ اپنی قومی اور ثقافتی شناخت سے جڑی تعلیم چاہیے۔اگر کسی آنے والی حکومت نے تعلیم کو صرف اسکولوں کی عمارتوں تک محدود رکھا تو وہ مستقبل کے تقاضوں سے انصاف نہیں کرسکے گی۔
آج تعلیم کا مطلب صرف کتاب نہیں؛ تعلیم کا مطلب روزگار، تحقیق، ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت اور عالمی معیشت میں مقابلہ کرنے کی اہلیت بھی ہے۔ایک سابق وزیر تعلیم کے لیے یہ میدان سب سے بڑا امتحان بھی ہوسکتا ہے اور سب سے بڑا موقع بھی۔
آزاد کشمیر کی سب سے بڑی دولت اس کے پہاڑ، دریا، جنگلات یا سیاحتی مقامات ہی نہیں؛ اس کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں۔یہ نوجوان پاکستان کے بڑے شہروں، خلیجی ممالک، یورپ، برطانیہ اور دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ریاست انہیں اپنے اندر کیوں نہیں روک سکتی؟کیوں ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگار کے لیے مظفرآباد، راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، کراچی یا بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے؟کیوں آزاد کشمیر میں آئی ٹی، سیاحت، ہائی ویلیو زراعت، ہنر مندی، چھوٹی صنعت اور آن لائن کاروبار کے وسیع مواقع پیدا نہیں کیے جاسکتے؟اگر بیرسٹر افتخار گیلانی کو ریاستی قیادت ملتی ہے تو نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ ان کے سیاسی ایجنڈے کا مرکزی ستون ہونا چاہیے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی تعلق مظفرآباد سے ہے۔
مظفرآباد صرف ایک انتخابی حلقہ نہیں بلکہ ریاست کا دارالحکومت ہے۔
یہاں ریاستی ادارے موجود ہیں، آزاد کشمیر یونیورسٹی موجود ہے، سرکاری دفاتر ہیں، تاریخی اور سیاحتی مقامات ہیں اور ایک بڑی شہری آبادی روزمرہ مسائل سے دوچار ہے۔
مظفرآباد کے لیے ماسٹر پلان، لینڈ یوز پلان، بلڈنگ کوڈز، ٹریفک، نکاسی آب، سیوریج، صاف پانی، تجاوزات، کچرے کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مسائل برسوں سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔2016 کے سیاسی مباحث میں بھی بیرسٹر افتخار گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے مظفرآباد کی ترقی، روزگار اور شہری مسائل کے حل پر زور دیا گیا تھا۔اب اگر وہ ریاستی سطح پر بڑی ذمہ داری سنبھالتے ہیں تو مظفرآباد کے حوالے سے ان کی کارکردگی خود ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم پیمانہ ہوگی۔آزاد کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اسے دنیا کے بہترین سیاحتی خطوں میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیکن سیاحت صرف خوبصورت پہاڑ دیکھنے کا نام نہیں۔سیاحت ایک مکمل معاشی صنعت ہے۔سڑک، ہوٹل، صفائی، ریسکیو، ٹور گائیڈ، مقامی مصنوعات، ڈیجیٹل نقشے، سفری سہولیات، صحت، امن و امان اور ماحولیاتی تحفظ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر آزاد کشمیر میں سیاحت کو جدید انداز میں منظم کیا جائے تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روزگار پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے یہ بھی ایک اہم میدان ہوسکتا ہے جہاں ان کا قانونی، انتظامی اور سیاسی تجربہ ریاستی پالیسی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔قدرتی آفات اور ماحولیات
آزاد کشمیر کا جغرافیہ اسے قدرتی آفات کے حوالے سے حساس بناتا ہے۔
زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب، کلاؤڈ برسٹ اور جنگلات کی تباہی جیسے مسائل محض قدرتی واقعات نہیں رہتے بلکہ انسانی زندگی، معیشت، انفراسٹرکچر اور پانی کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔اس لیے مستقبل کی حکومت کو ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
سڑک ضرور بنے مگر پہاڑ کا سینہ چیر کر نہیں۔
عمارت ضرور بنے مگر قدرتی نکاسی کے راستے بند کرکے نہیں۔سیاحت ضرور بڑھے مگر جنگلات اور پانی کے ذخائر قربان کرکے نہیں۔اگر آزاد کشمیر کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے تو ماحولیات کو ہر ترقیاتی منصوبے کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔قانون دان کی حکومت — قانون کی بالادستی
بیرسٹر افتخار گیلانی کی سب سے نمایاں شناخت ایک قانون دان کی ہے۔اس لیے اگر وہ ریاستی قیادت تک پہنچتے ہیں تو عوام ان سے قانون کی بالادستی کی توقع بھی رکھیں گے۔
قانون صرف کمزور کے لیے نہیں، طاقتور کے لیے بھی ہونا چاہیے۔میرٹ صرف عام نوجوان کے لیے نہیں، سیاسی کارکن کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
شفافیت صرف مخالف حکومتوں سے نہیں، اپنی حکومت سے بھی مطلوب ہونی چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قانون دان سیاست دان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔یہ ایک جاری سفر ہے۔
2011 میں اسمبلی میں داخلہ۔2016 میں دوبارہ کامیابی۔پانچ سالہ وزارتِ تعلیم۔2026 میں عام نشست پر انتخابی شکست۔پھر ٹیکنوکریٹ نشست پر 26 ووٹوں سے کامیابی۔اور چند ہی دن بعد وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر نامزدگی۔یہ اتار چڑھاؤ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاست کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔کبھی عوامی ووٹ فیصلہ کرتا ہے۔
کبھی پارلیمانی عددی قوت۔
کبھی پارٹی قیادت۔
اور کبھی حالات انسان کو اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں چند دن پہلے پہنچنے کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے۔ عہدہ نہیں، تاریخ کا فیصلہ اہم ہوگا۔بیرسٹر افتخار گیلانی کے سیاسی سفر کا سب سے اہم باب شاید ابھی لکھا جانا باقی ہے۔اگر انہیں وزارتِ عظمیٰ ملتی ہے تو ان کے پاس یہ ثابت کرنے کا موقع ہوگا کہ قانون کی تعلیم، وکالت کا تجربہ، پارلیمانی سیاست، وزارتِ تعلیم اور طویل سیاسی وابستگی کو ایک جامع ریاستی وژن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کی سیاست کو محض روایتی سیاسی وعدوں سے آگے لے جانا ہے یا واقعی ادارہ جاتی اصلاحات کا آغاز کرنا ہے۔یہ طے کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کو صرف نوکریوں کے وعدے دینے ہیں یا روزگار پیدا کرنے والی معیشت بنانی ہے۔یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تعلیم کو صرف عمارتوں تک محدود رکھنا ہے یا اسے جدید ہنر، ٹیکنالوجی اور روزگار سے جوڑنا ہے۔
یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ترقی کا مطلب صرف سڑک اور پل ہے یا جنگلات، پانی، ماحول اور آنے والی نسلوں کا تحفظ بھی ترقی کا حصہ ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سیاست میں کامیابی کا اصل مطلب اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار کو عوامی امانت سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کے حامی ان کے سیاسی سفر کو ایک نظریاتی وابستگی، قانونی تربیت، عوامی خدمت اور انتظامی تجربے کے امتزاج کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے ناقدین کو اختلاف کا حق حاصل ہے اور یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ کسی بھی سیاسی شخصیت کا حتمی فیصلہ تعریف یا مخالفت سے نہیں بلکہ وقت، کارکردگی اور عوامی نتائج سے ہوتا ہے۔
آج بیرسٹر افتخار گیلانی ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ماضی ان کے پیچھے ہے اور مستقبل ان کے سامنے۔
ماضی میں ایک قانون دان تھا۔
پھر سیاسی کارکن بنا۔
پھر دو مرتبہ منتخب رکن اسمبلی۔پھر وزیر تعلیم۔پھر انتخابی شکست۔پھر ٹیکنوکریٹ نشست پر واپسی۔اور اب وزارتِ عظمیٰ کی دہلیز۔لیکن تاریخ کا اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کتنی مرتبہ منتخب ہوئے؟
اصل سوال یہ ہوگا کہ جب انہیں اختیار ملا تو انہوں نے ریاست کے لیے کیا کیا؟
کیا میرٹ کو مضبوط کیا؟
کیا اداروں کو طاقتور بنایا؟
کیا نوجوانوں کو روزگار دیا؟
کیا تعلیم کو جدید بنایا؟
کیا مظفرآباد کو ایک حقیقی دارالحکومت کا شہری نظم دیا؟
کیا سیاحت کو صنعت بنایا؟
کیا ماحولیات کو ترقیاتی پالیسی کا حصہ بنایا؟
کیا ریاستی وسائل کو امانت سمجھا؟
اور کیا عام آدمی کو یہ احساس دلایا کہ حکومت واقعی اس کی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے وقت میں دیے جائیں گے۔
کیونکہ عہدے تاریخ کے صفحات پر چند سطریں لکھتے ہیں، مگر کردار پوری تاریخ لکھ دیتا ہے۔بیرسٹر افتخار گیلانی کے سیاسی سفر کا اگلا باب اب اسی امتحان سے شروع ہوتا ہے۔
اقتدار ان کے سامنے ہے، تاریخ ان کے پیچھے ہے، اور عوام کی نظریں ان پر ہیں۔اب فیصلہ وقت کرے گا کہ یہ سفر صرف ایک سیاسی کامیابی کی داستان بنتا ہے یا آزاد کشمیر کی حکمرانی میں ایک نئے باب کا آغاز۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سیاست دان کو اپنے اندر کے رہنما کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کے 2011 اور 2016 کے انتخابی سفر، وزارتِ تعلیم، 2026 کے عام انتخابات میں شکست، ٹیکنوکریٹ نشست پر 26 ووٹوں سے کامیابی اور موجودہ وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی