دنیا میں ہسپتال سانحات پر وزرا نے عہدے چھوڑے،پاکستان میں روایت مختلف کیوں؟
فائل فوٹو
اسلام آباد: دنیا کے مختلف ممالک میں ہسپتالوں میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفے دیے یا انہیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے المناک واقعے کے بعد پاکستان میں بھی حکومتی ذمہ داری سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فروری 2009 میں بھارت کے شہر پٹیالہ کے راجندرا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے پانچ نومولود جان کی بازی ہار گئے تھے۔ واقعے کے بعد اس وقت کے بھارتی پنجاب کے وزیر صحت ٹکشن سود نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بحیثیت وزیر وہ اس سانحے کی اخلاقی ذمہ داری سے خود کو الگ نہیں سمجھتے۔
اس سے قبل 2007 میں کویت کے ایک سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے میں دو مریض جاں بحق ہوئے تھے۔ حادثے کے بعد کویت کی وزیر صحت معصومہ المبارک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ کویت کی پہلی خاتون وزیر بھی تھیں۔
مئی 2021 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ابن الخطیب ہسپتال میں آکسیجن ٹینک پھٹنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ واقعے کے بعد عراقی وزیر صحت حسن التمیمی کو پہلے معطل کیا گیا اور بعد ازاں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
اسی طرح مئی 2022 میں سینیگال کے ایک ہسپتال میں آگ لگنے کے نتیجے میں 11 نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی۔ سانحے کے بعد سینیگال کے صدر نے وزیر صحت کو عہدے سے برطرف کردیا تھا۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں نومولود بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کی اموات نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی ردعمل اور انتظامی نگرانی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سانحے کے بعد تحقیقات کا عمل شروع کیا گیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ ایسے المناک واقعات میں صرف تحقیقات کافی ہیں یا متعلقہ حکام کو انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔
دنیا کے مختلف واقعات کی مثالیں سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ پاکستان میں ایسے سانحات کے بعد ذمہ داری کا تعین کس سطح پر ہونا چاہیے اور کیا اعلیٰ حکام کو بھی اپنے منصب کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے؟
پمز سانحے میں معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد اصل توجہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہوں، غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔