پمز سانحہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش

تحقیقاتی رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ اسے منظر عام پر لانے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے۔

August 29, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے المناک واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں آتشزدگی کی وجوہات، ذمہ داروں، امدادی کارروائیوں میں پیش آنے والی مشکلات اور ہسپتال کی مجموعی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کرائی، جہاں سے اسے وزیراعظم کو ارسال کردیا گیا۔ وزیراعظم کو رپورٹ کی اہم سفارشات اور مندرجات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ اسے منظر عام پر لانے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سانحے کے ذمہ دار افراد اور متعلقہ عملے کی نشاندہی بھی کی ہے۔ رپورٹ میں واقعے کے وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے متعلقہ ہسپتال ملازمین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں وزیراعظم سے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں فوری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف جلد کارروائی متوقع ہے۔

امدادی کارروائیوں میں مشکلات کی نشاندہی

تحقیقاتی کمیٹی نے آگ لگنے کے بعد امدادی سرگرمیوں کے دوران ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیموں کو پیش آنے والی مشکلات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران پمز انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے ارکان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جبکہ واقعے سے متعلق دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ میں پمز ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، انتظامی نظام اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

ہسپتال کے نظام پر اہم سوالات

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں ہسپتال کے مختلف انتظامی اور طبی معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ رائے سامنے آئی ہے کہ دستیاب نظام اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔

کمیٹی نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متعدد سفارشات بھی پیش کی ہیں۔ ان سفارشات کا مقصد ہسپتال کے انتظامی و طبی نظام کو بہتر بنانا، حفاظتی اقدامات مؤثر کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔

انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیراعظم آفس کو بھیجے جانے کی تصدیق کردی ہے۔ اب وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ میں دی گئی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مستقبل کے لیے اصلاحات سے متعلق حتمی لائحہ عمل طے کیے جانے کا امکان ہے۔