کم عمر بچیوں کو مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ناکام،دو لڑکیاں بازیاب
دونوں لڑکیوں کو مبینہ طور پر تنظیم کے پروپیگنڈے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
کوئٹہ: بلوچستان میں کالعدم مسلح تنظیم کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق مکران کے علاقے سے 16 سالہ لڑکی اور اس کی 12 سالہ کزن کو بازیاب کرایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ دونوں لڑکیوں کو مبینہ طور پر تنظیم کے پروپیگنڈے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق خواتین اور کم عمر بچیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ معاشرتی روایات کے بھی منافی ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق 16 سالہ لڑکی زینب کے شوہر کو مبینہ طور پر تنظیم سے وابستہ ایک مقامی کمانڈر نے اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ انکار کے بعد اسے قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں زینب سے رابطہ کرکے اسے مبینہ طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اس کے شوہر کی ہلاکت ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہوئی ہے۔
میر ضیا لانگو نے کہا کہ اسی طرح کے بیانیے کے ذریعے نوجوانوں کو جذباتی طور پر متاثر کرکے مسلح تنظیموں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زینب کے خاندان کے متعدد افراد بھی ماضی میں تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔
بی ایل اے خود بلوچستان کے لوگوں کو قتل کرتی پھر گھر والوں کو کہتی سیکیورٹی فورسز نے مارا ہے اور اُنکی عورتوں کو ورغلا کر خودکش حملے پر مجبوری کرتے ہیں سیکیورٹی فورسز نے 2 لڑکیوں کو بی ایل اے کے چنگل سے چھڑا لیا ہے جنہیں خودکش حملہ کرنے کے لیے اغواء کیا گیا تھا pic.twitter.com/Wo8BcexZGy
— Muzamil (@muzamil_45) August 29, 2026
پریس کانفرنس کے دوران زینب نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے شوہر کی ہلاکت کا بدلہ لینے پر اکسایا گیا۔ اس کے مطابق اس کی کم عمر کزن فاطمہ بھی مسلسل اس کے ساتھ رہتی تھی اور اسی رابطے کے ذریعے وہ بھی مسلح گروہ سے وابستہ افراد کے رابطے میں آگئی۔
زینب کے مطابق فاطمہ کے والد بھی مبینہ طور پر دہشت گردی کا نشانہ بن چکے تھے، جس کے باعث اسے بھی جذباتی طور پر متاثر کرکے تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا گیا۔ دونوں لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں ریاستی اداروں سے بدلہ لینے کے لیے ورغلایا گیا اور بعد ازاں وہ مسلح گروہ کے پاس پہنچ گئیں۔
زینب نے دعویٰ کیا کہ دونوں کو تقریباً 40 روز تک ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور نوجوانوں کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بیانیے کا مقابلہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔