ڈیفنس کراچی میں پولیس افسر کی مبینہ سالی کے تشدد پر انکوائری کا حکم

دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں، زیورات چوری کا معاملہ ایف آئی آر سے نکال دیا، ڈی آئی جی ساؤتھ

August 29, 2026 · قومی
ڈیفنس کراچی میں جھگڑے کی فوٹیج سے لی گئی تصویر، سرخ شرٹ میں خاتون کا نام مریم بتایا جاتا ہے

ڈیفنس کراچی میں جھگڑے کی فوٹیج سے لی گئی تصویر، سرخ شرٹ میں خاتون کا نام مریم بتایا جاتا ہے

کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز 6 میں واقع ایک آپارٹمنٹ کے مکینوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں پولیس کی مبینہ شمولیت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ہفتے کے روز ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی میرٹ پر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں کیونکہ فریقین ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون ہاتھ میں ڈمبل لیے سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے اترتی ہے اور دوسری خاتون پر حملہ کر کے اسے مارتی ہے۔ ویڈیو میں پولیس یونیفارم میں ملبوس 2 افراد کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو متاثرہ خاتون کو قابو کیے ہوئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص سیڑھیوں سے اوپر آتا ہے اور ڈمبل والی خاتون کے ساتھ بحث شروع کر دیتا ہے۔ ایک موقع پر متاثرہ مرد اور خاتون اپنے گھر کے اندر جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے بعد ڈمبل والی خاتون اور ایک اور شخص ان کا دروازہ پیٹنے اور گالیاں دینے لگتے ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں شلوار قمیض میں ملبوس ایک شخص کو یونیفارم میں ملبوس ایک اہلکار کی فراہم کردہ بندوق سے سی سی ٹی وی کیمرے کو توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر دعوے کیے گئے ہیں کہ ڈمبل مارنے والی خاتون مریم ایک پولیس افسر کی سالی ہے اور پہلے بھی لوگوں کو پٹوا چکی ہے۔

تشدد کا یہ واقعہ 9 دن قبل پیش آیا تھا جس کے بعد مریم نے درخشاں پولیس اسٹیشن میں 21 اگست کو رات 1:40 پر مقدمہ درج کرایا۔ ایف آئی آر میں پاکستان تعزیراتِ ہند کی دفعات 354، 504، 506، 337A(i)، 382 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ مدعیہ نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک آپارٹمنٹ کی چوتھی منزل پر رہائش پذیر ہے اور تیسری منزل پر رہنے والا ایک شخص، اس کی بہن اور ان کی ماں دروازے پر آئے اور لاتیں مارنے لگے۔ شکایت کنندہ کا الزام تھا کہ تینوں فیملی ارکان نے پارکنگ کے تنازع پر گالیاں دیں اور دروازہ کھولنے پر اسے مار پیٹ کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیں۔ ایف آئی آر کے مطابق بعد میں مقامی پولیس موقع پر پہنچی اور مدعیہ کے بیان پر بھائی اور بہن کو حراست میں لے لیا جبکہ ان کی ماں فرار ہو گئی۔ مدعیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوسرے فریق نے اس کے سونے کا ایک جھمکا اور 2 انگوٹھیاں چھین لیں۔

سوشل میڈیا کے دعوؤں کے مطابق متاثرہ خاندان رہا ہونے کے بعد خوف کی وجہ سے روپوش ہے۔ تاہم ویڈیوز سامنے آنے کے بعد معاملے کا دوسرا رخ سامنے آیا۔

ڈی آئی جی سید اسد رضا نے بتایا کہ سونے کے زیورات کی مبینہ چوری سے متعلق دفعہ 382 کو ایف آئی آر سے خارج کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ واقعہ بنیادی طور پر حملے کا کیس معلوم ہوتا ہے۔