ٹیکس دینے والی دکانوں میں توڑپھوڑ پر جیولرز – تاجر مشتعل

0

کراچی(رپورٹ: نعمان اشرف/اطہر فاروقی) زیب النسا اسٹریٹ انگلش بوٹ ہاؤس والی گلی میں نوٹس کے بغیر انسداد تجاوزات عملے کی توڑ پھوڑ پر تاجر اور جیولرز میئر کراچی کیخلاف پھٹ پڑے، 500سے زائد دکانوں کے مالکان نے کبھی تجاوزات قائم ہونے نہیں دی، کے ایم سی کے اینٹی انکروچمنٹ عملے نے ٹیکس دینے والی دکانوں کے ساڑھے7کروڑ روپے مالیت کے سائن بورڈز توڑ دیئے، تاجروں نے نقصان پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے میئرکراچی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق میئرکراچی وسیم اختر کیخلاف زیب النسا کے جیولرز اور تاجربرادری بھی پھٹ پڑی ہے۔ سائن بورڈز اور چھجوں کی مد میں ماہانہ لاکھوں ٹیکس دینے والے جیولرز اور دیگر دکانداروں نے بلدیہ عظمیٰ کے آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیاہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ دکانداروں کو اشتعال دلانے کیلئے آپریشن کا رخ پتھاروں کے بجائے قانونی دکانوں کی طرف موڑا جارہا ہے۔ تاجروں کی شکایات پر ’’امت‘‘ نے متاثرہ مارکیٹ زیب النسا کا سروے کیا، جہاں جیولری کی درجنوں دکانوں کے علاوہ اطراف کی گلیوں میں الیکٹریشن، جوس اور کھانے پینے کی متعدد دکانیں بھی موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق صدر اور گردونواح میں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے حکم پر شہری حکومت نے محض ایمپریس مارکیٹ کے اطراف قائم پتھارے داروں کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے آگاہ کیا، دیگر معروف مارکیٹوں میں بلدیہ عظمیٰ نے پینافلیکس نصب کرکے تاجروں کو آگاہی فراہم کی۔ امت کو زیب النسا مارکیٹ کے متاثرہ دکانداروں نے بتایا کہ کے ایم سی نے نہ مارکیٹ کا سروے کیا، نہ ہی یہ اعلان کیا کہ چھجے اور سائن بورڈ ہٹالیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ چھجوں اور سائن بورڈ کا ٹیکس ڈی ایم سی جنوبی کو ادا کرتے ہیں۔ آل پاکستان جولرز اینڈمنیوفیکچر ویلفیر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد نے ’’امت‘‘ کو بتایا ہے کہ تجاوزات کے باعث ہمارا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے، تاجر برادری سپریم کورٹ کو سراہتی ہے، جس نے صدر سے تجاوزات کے مکمل خاتمے کا حکم دے رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجاوزات کے باعث ایب النسا کے اطراف ٹریفک جام معمول اور کاروبار مشکل ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی دکاندار ٹریفک جام سے تنگ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 روز قبل بلدیہ عظمیٰ عملے نے ہماری مارکیٹ میں تھوڑ پھوڑ شروع کردی، جس پر تاجر برادری نے چھجے اور سائن بورڈ خود ہٹانے کیلئے 2 روز کی مہلت مانگی۔ تاہم انہوں نے ایک نہ سنی اور لاکھوں مالیت کے سائن بورڈ منٹوں میں مسمار کردیئے اور شٹرز کو بھی نقصان پہنچایا،اس اقدام سے زیب النسا کی تاجر برادری شدید غم وغصے میں ہے۔ ہم بہت جلد میئر کراچی کیخلاف قانونی اقدام اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کا رخ ٹیکس دینے والی دکانوں کیطرف اس لئے موڑا گیا کہ تاجر برادری میں اشتعال پیدا ہو اور وہ سڑکوں پر آجائیں تاکہ آپریشن متاثر ہو اور پتھاریداروں کو تحفظ فراہم کیاجائے۔ دوسری جناب جیم جیولرز کے سینئر رہنما عبیداللہ کا کہنا ہے کہ کے ایم سی نے زیب النسا مارکیٹ کو اجاڑ دیا ہے، آپریشن سے تاجروں کو کروڑوں کا نقصان پہنچا ہے۔ تاجروں نے میئرکراچی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری تجاوزات کیخلاف ہے لیکن میئرکراچی نے عدالتی احکامات کا غلط استعمال کیا ہے، جس سے تاجر برادری مایوس ہے، ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ آپریشن کو تجاوزات تک ہی رکھا جائے اور میئرکراچی زیب النسا مارکیٹ کے تاجروں سے معافی مانگیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More