پولیس وین سے ٹکرانے والی بغیر ڈرائیور کی کار کے پیچھے کہانی

انٹرنیٹ سگنل نہ آنے کے باعث حادثہ ہوا- گاڑی میں رپورٹر تھا جس نے ویڈیو جاری کی

September 1, 2026 · کامرس
بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑی اسلام آباد میں پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی

بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑی اسلام آباد میں پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی

انٹرنیٹ پر پیر کے روز ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک بغیر ڈرائیور کی گاڑی مڑ کر اچانک پولیس کی گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے۔ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا رپورٹر اسے آخری وقت میں روکنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ اس پورے واقعے اور بغیرڈرائیور کار کی کہانی سامنے آگئی ہے۔

حادثہ سلام آباد کے ڈی چوک میں انٹرنیٹ کی بندش اور تکنیکی خرابی کے باعث ہوا۔ گاڑی میں بیٹھے رپورٹر کا نام محمد عالیجاہ ہے جنہوں نے یہ ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی۔

ویڈیو میں انہیں اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک کار کی اگلی مسافر نشست پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، جسے بظاہر ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب محمد عالیجاہ کار کی خصوصیات کے بارے میں بتاتے ہیں اور گاڑی آگے بڑھتی ہے تو آپریٹر کی جانب سے ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جانے والا اسٹیئرنگ وہیل اچانک قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ نتیجے میں یہ کار سڑک کے کنارے کھڑی ایک پولیس وین سے ٹکرا جاتی ہے۔ ویڈیو میں محمد عالیجاہ کو کار کو پولیس وین سے ٹکرانے سے بچانے کے لیے ہینڈ بریک کھینچتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، تاہم ان کی یہ کوشش رائیگاں جاتی ہے۔

صحافی محمد عالیجاہ نے بتایا کہ ایبٹ آباد کے ٹیکنالوجی کے شوقین احسان ظفر نے ان سے اپنی ٹیکنالوجی پر مبنی آٹو میٹڈ ڈرائیونگ کی ایجاد پر رپورٹنگ کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے تکنیکی خرابی پیدا ہونے تک سب کچھ ٹھیک تھا، جس کی وجہ سے کار قابو سے باہر ہو گئی اور ایک پولیس گاڑی سے جا ٹکرائی۔ محمد عالیجاہ نے وضاحت کی کہ کار کو انٹرنیٹ کے ذریعے ریموٹ سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور کنکشن اچانک منقطع ہونے کی وجہ سے یہ بے قابو ہو گئی۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ سے کچھ دیر قبل بارش ہوئی تھی اور اس وقت بھی موسم صاف تھا، شاید اس وجہ سے یا کسی اور وجہ سے فون کے سگنل گاڑی کو موصول نہیں ہوئے۔ احسان ظفر ماضی میں کی بورڈ سے گاڑی کو کنٹرول کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکے تھے، اب وہ سٹیلائیٹ اور موبائل فون سے اسے کنٹرول کرنے کا تجربہ کر رہے تھے۔

پیر کو سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں صحافی محمد عالیجاہ (@MuhammadAalijah) نے کہا کہ اس ویڈیو کو بنانے کا مقصد ہرگز اس نوجوان کو بدنام کرنا یا نشانہ بنانا نہیں تھا جو اس کار کا مالک ہے اور اسے چلا رہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا واحد مقصد آگاہی پیدا کرنا اور لوگوں پر زور دینا تھا کہ جب تک کسی بھی نئے تجربے یا ٹیکنالوجی کا اچھی طرح تجربہ نہ کر لیا جائے، اسے محفوظ ثابت نہ کر دیا جائے اور مکمل کامیابی کے طور پر قائم نہ کر لیا جائے، لوگ محتاط رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ احتیاط کا پیغام تھا، کسی کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے ویڈیو اپ لوڈ کی تاکہ مزید لوگ اگر ایسا تجربہ کریں تو احتیاط سے کام لیں۔

آن لائن ویڈیو شیئر کرتے ہوئے محمد عالیجاہ نے کہا کہ کار کا سسٹم ابھی تک مکمل طور پر محفوظ اور قابل اعتماد نہیں ہے۔

انہوں نے لکھا کہ گاڑی سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ کنکشنز کے ذریعے چلائی جا رہی تھی، لیکن بیرونی کنٹرول کے دوران جیسے ہی انٹرنیٹ کا کنکشن منقطع ہوا، یہ بے قابو ہو گئی اور ایک پولیس گاڑی سے ٹکرا گئی۔

یہ واقعہ انتہائی کم ٹریفک والے ایک انتہائی سکیورٹی زون میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال کسی مصروف سڑک پر پیش آتی تو نتائج انتہائی خطرناک یہاں تک کہ جان لیوا بھی ہو سکتے تھے۔

رپورٹر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے ان سے تعاون کیا اور اس معاملے پر کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔