نیتن یاہو کی میزبانی امارات کو مہنگی پڑے گی- ایران کی دھمکی
متحدہ عرب امارات ایرانی جزائر سے متعلق اپنے بے بنیاد اور لایعنی دعوے فوری طور پر بند کرے- محسن رضائی
مصلحت نظام کونسل ایران کے سیکرٹری اور ممتاز رہنما محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی میزبانی کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی نے امارات کو کسی قسم کی سکیورٹی فراہم نہیں کی، لہذا غزہ کے قصاب کی میزبانی بھی امارات کے لیے ہرگز فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی۔ انہوں نے اماراتی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ گزشتہ جنگوں سے عبرت حاصل کرے اور خطے میں کشیدگی یا جنگیں بھڑکانے والے اقدامات سے مکمل گریز کرے۔
محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو ایرانی جزائر سے متعلق اپنے بے بنیاد اور لایعنی دعوے فوری طور پر بند کر دینے چاہئیں۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ہونے والی ملاقات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس مختصر دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور باہمی تعاون کو مستحکم بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ابوظہبی کے مختصر دورے کے فوری بعد واپس روانہ ہو گئے تھے۔ تاہم اماراتی اعلامیے میں ان میڈیا رپورٹس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دورے کے دوران نیتن یاہو نے اماراتی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بات کی تردید کریں کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے قبل اماراتی حکام کو کسی ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس دورے اور تہران کے ردعمل کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔