گلوریا ہیبسبرگ کون ہیں اور بلاول سے نام کیسے جوڑا گیا
آسٹریا کے آخری شہنشاہ کی پڑپوتی کو ہم جنس پرست بھی قرار دیا گیا
گلوریا اور بلاول بھٹو زرداری کبھی نہیں ملے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے منسوب جھوٹی خبروں میں زیرِ بحث رہنے والی خاتون آسٹریا کی گلوریا وان ہیبسبرگ (Gloria von Habsburg) ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون ہیں اور ان کا بلاول بھٹو زرداری سے نام جوڑنے کی کیا وجہ ہے۔
گلوریا وان ہیبسبرگ کا تعلق آسٹریا کے سابق نامور شاہی خاندان ‘ہیبسبرگ’ (Habsburg) سے ہے۔والدین: وہ آرچ ڈیوک کارل وان ہیبسبرگ (آسٹریا کے ہاؤس آف ہیبسبرگ کے موجودہ سربراہ) اور بیرونس فرینچیسکا تھائیسن برنیمیزا کی صاحبزادی ہیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل کی پڑپوتی ہیں۔ آسٹرین ایمپائر 1918 میں تحلیل ہوگئی تھی۔
ان کی پیدائش 1999 میں ہوئی اور ان کا پورا نام ‘گلوریا ماریہ بوگسلاوا کلوٹلڈے وان ہیبسبرگ’ ہے۔ ان کی ایک بڑی بہن الینور ماڈل اور فیشن ڈیزائنر ہے جب کہ ایک بڑا بھائی فرڈینینڈ زوونیمیر پیشہ ور ریسنگ ڈرائیور ہے۔
گلوریا نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ فیشن ماڈلنگ، دستاویزی فلم سازی (Documentary Filmmaking) اور سماجی کاموں سے وابستہ ہیں۔
وہ اپنے خاندان کے قائم کردہ فن پارے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے منصوبوں میں بھی فعال حصہ لیتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر چند پرانی تصاویر شیئر کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ بلاول بھٹو نے گلوریا سے منگنی یا شادی کر لی ہے۔ جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے خود ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ “پرنسس گلوریا” نامی کسی خاتون کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، نہ ہی وہ کبھی ملے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس سے پہلے ہی تردید کر چکی تھی۔
افواہ شروع کیسے ہوئی؟
گلوریا کا نام بلاول سے جوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صدر آصف علی زرداری 27 اگست سے یورپ (خصوصاً آسٹریا اور اس کے پڑوسی ملک لیختن شٹائن) کے نجی دورے پر ہیں۔ چونکہ گلوریا کا تعلق بھی آسٹریا سے ہے تو ان کا نام بلاول سے جوڑ دیا گیا۔ گلوریا کی جو تصویر اس مقصد کے لیے استعمال کی گئی وہ 2024 میں ویانا میں لی گئی تھی جب وہ ایک فیسٹول میں شریک تھیں۔
صدر زرداری کے دورہ یورپ کے دوران بلاول کی منگنی یا شادی کی افواہ ایک اردو روزنامے نے شروع کی لیکن جلد ہی اپنی ویب سائٹ سے وہ خبر ڈیلیٹ کردی۔ تاہم سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پھر کئی طرح کی کہانیاں بنا لی گئین۔ ایک کہانی یہ بھی تھی کہ گلوریا ہم جنس پرست ہیں۔
افواہوں کی فیکٹری اتنی تیز چلی کہ صحافی نصرت جاوید کو خود سے منسوب ایک بیان کی تصدیق کرنا پڑی جس میں کہا گیا تھا ’یورپ کے شاہی خاندان کی لڑکی پاکستان کے اہم گھرانے میں شادی کی تیاریاں‘
I did not post THIS on any social media platform. Someone is viciously trying to malign me by attributing this post to me. As a matter of principle throughout my career never discussed politicians’ private affairs.Stayed away from such stories even if hating the concerned… pic.twitter.com/GmTzuDh263
— Nusrat Javeed (@javeednusrat) August 30, 2026