زیلنسکی کا بھارت سے روسی تیل نہ خریدنے کا مطالبہ

اگر روس کے بڑے توانائی خریدار ماسکو کے ساتھ تجارت محدود یا ختم کردیں تو روس کی جنگی صلاحیت اور معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

September 23, 2026 · بام دنیا
زیلنسکی کا بھارت سے روسی تیل نہ خریدنے کا مطالبہ

زیلنسکی کا بھارت سے روسی تیل نہ خریدنے کا مطالبہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھارت سے روسی تیل کی خریداری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی معیشت کو بھارت، چین اور ترکیے سمیت بڑے خریداروں کی توانائی تجارت سے سہارا مل رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر روس کے بڑے توانائی خریدار ماسکو کے ساتھ تجارت محدود یا ختم کردیں تو روس کی جنگی صلاحیت اور معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق نئی پابندیوں کے قانون پر دستخط کیے ہیں۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے، تاہم محصولات کا نفاذ خودکار طور پر نہیں ہوتا۔

رپورٹس کے مطابق بھارت اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، جس کے باعث نئی امریکی قانون سازی کے ممکنہ اثرات ان ممالک کی روس کے ساتھ توانائی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ روس اپنی معیشت کے لیے مختلف بڑے ممالک کے ساتھ توانائی تجارت پر انحصار کرتا ہے، اس لیے ان ممالک کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں کمی جنگ کے حوالے سے ماسکو پر معاشی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روسی توانائی تنصیبات اور برآمدی نظام کو بھی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جبکہ روسی تیل کی عالمی ترسیل بدستور جاری ہے۔