جماعت اسلامی کی ہڑتال، کراچی کی بڑی مارکیٹس اور مالز کل بند رکھنے کا اعلان
مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کیا جا سکتا ہے، حافظ نعیم
کراچی مین بند دکانیں (فائل فوٹو)
پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر کراچی میں تاجر تنظیموں نے جمعرات 3 ستمبر کو تجارتی مراکز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر الائنس آف مارکیٹ فہیم نوری نے کہا کہ 43 مارکیٹوں کے سربراہان نے کل ہڑتال کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صدر، الیکٹرانکس، موبائل اور دیگر تمام مارکیٹس کل مکمل بند رہیں گی۔ الائنس میں شامل تمام مارکیٹوں کو کل ہڑتال میں شریک ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔
صدر کلفٹن ڈیفنس ٹریڈرز مارکیٹ ایسوسی ایشن راشد خان نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد اضافی رقم قابل قبول نہیں، تاجروں کی کل کی ہڑتال عوام کے لیے ہے۔ کراچی کی تمام بڑی مارکیٹیں 3 ستمبر کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر پرامن ہڑتال کے باعث بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
تاجر رہنما عتیق میر نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو شہر بھر کی مارکیٹیں بند رکھی جائیں گی۔ کراچی ٹریڈرز الائنس کے جنرل سیکریٹری منہاج گل فراز کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور الیکٹرانکس مارکیٹیں بھی ہڑتال میں شامل ہوں گی۔
مارکیٹوں کی بندش کا اعلان جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے 3 ستمبر کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر پرامن ہڑتال کی کال کے بعد سامنے آیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مارکیٹوں اور اہم شاہراہوں تک بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، یہ تحریک گلی محلوں کی سطح پر آگے بڑھ رہی ہے، 3 ستمبر کو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، کارکنان مارکیٹوں میں رابطے کر رہے ہیں، تمام تاجروں کی مارکیٹوں کے صدور نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس چیز کے بارے میں لوگوں کو شعور نہیں تھا، ہم نے آگاہی دی۔ پاکستان میں 5 ملین گاڑیاں ہیں جو چلتی ہیں، موٹر سائیکلیں لاکھوں میں ہیں، ایسے لوگوں پر حکومت نے لیوی بھتہ نافذ کیا ہوا ہے۔ ایک طالب علم پیٹرول ڈلوائے اور اس سے 35 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے، کتنی بڑی زیادتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی تحریک میں تمام اپوزیشن پارٹیاں ساتھ دیں۔ کل پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، دھرنوں کو مزید پھیلا بھی سکتے ہیں۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور یہی چاہتے ہیں حکومت پاکستانیوں کی زندگی آسان کرے، بھتہ لیوی کو ہر صورت میں ختم کرو۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنے کا اثر ہے، یہی حکومت بات تو کرنے آئی۔ ہمیں لوگ سراہ رہے ہیں، میڈیا کی اپنی پالیسی ہے وہ کس دھرنے کو کور کرتے ہیں۔ بڑے بڑے دانشوروں کو ان 18 دنوں میں یہ مہنگائی اور لیوی نظر نہیں آئی۔ بیرون ملک مقیم کچھ لوگ ہیں جو نظریہ بیچتے ہیں، انہیں جماعت اسلامی سے پریشانی ہے۔ 32 روپے ڈیزل کی قیمت میں کمی اسی دھرنے کے باعث ہوئی، آج 16 روپے بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہم کراچی میں 15 سال لڑتے رہے ہیں۔ انتظامی یونٹس کے حوالے سے آئین میں جو بھی چیز ہے اس کے مطابق کریں، عوام کی رائے کے مطابق کریں۔ 7 سیٹیں پیپلز پارٹی کو دی گئیں، بلاول صاحب فارم تو لے آئیں۔ پوری کی پوری پی ڈی ایم کو دیکھیں، یہ سارے فارم 47 والے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے صوبوں کے حوالے سے آئین کے مطابق قرارداد منظور کی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھی مہاجر تقسیم پیدا نہ کریں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی نہ کریں۔ اگر میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تو میں میئر کراچی ہوتا۔