ہراسانی کیس میں اہم پیش رفت، مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹس
یہ نوٹس نئے سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ ادارے نے معاملے کی ازسرنو تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔
فائل فوٹو
لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ سے متعلق ہراسانی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے دونوں فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کردیے۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ نوٹس نئے سامنے آنے والے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ ادارے نے معاملے کی ازسرنو تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔
ترجمان کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسر کریں گے، جبکہ ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ مقدمے کے سابقہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ معلومات کا بھی جائزہ لے گی۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیم کو ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹ کی روشنی میں مقدمے کے حوالے سے آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل کیس کی تفتیش تبدیل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس کی رپورٹ میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی گرفتاری فی الحال ضروری قرار نہیں دی گئی تھی۔
دوسری جانب مومنہ اقبال کی جانب سے تفتیش کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اداکارہ نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کیس کو اس طرح نہیں چھوڑیں گی اور ان کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائیں۔
مقدمے کی ایف آئی آر میں ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور بعض ساتھیوں پر مبینہ سائبر ہراسگی اور بلیک میلنگ سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم ان الزامات سے متعلق حتمی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
این سی سی آئی اے کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد اور سابقہ ریکارڈ کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد رپورٹ پیش کی جائے گی، جس کے بعد کیس میں آئندہ قانونی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔