بانی پی ٹی آئی باہر آئے تو سازشوں کا حساب لوں گا:گنڈاپور

حکومت ختم ہوجائے یا گورنر راج نافذ کیا جائے، تاہم ڈرون حملے نہیں ہونے چاہئیں۔

September 4, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ان کے خلاف جو سازشیں کی گئیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے بعد وہ ان کا حساب لیں گے۔

ایک انٹرویو میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آخری پیغام ان کی وزارتِ اعلیٰ سے علیحدگی کے بعد ملا تھا۔ ان کے مطابق پیغام میں کہا گیا تھا کہ حکومت ختم ہوجائے یا گورنر راج نافذ کیا جائے، تاہم ڈرون حملے نہیں ہونے چاہئیں۔

علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کے چھوٹے بھائی کی طرح ہیں اور انہیں پارٹی ٹکٹ دلوانے میں بھی انہوں نے کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی بورڈ میں سہیل آفریدی کو ٹکٹ نہیں مل رہا تھا، جس پر انہوں نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے ٹکٹ دلوایا، جبکہ بعد میں انہیں کابینہ میں بھی شامل کیا۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے خلاف مبینہ سازش اور نامناسب رویے کے باوجود انہوں نے کسی کے خلاف کچھ نہیں کہا، کیونکہ ان کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کی تحریک زیادہ اہم ہے۔

لاہور جلسے کا ذکر کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہیں لاہور میں جلسے کی اجازت دباؤ کے تحت دی گئی تھی تاکہ وہ بڑا قافلہ لے کر شہر میں نہ پہنچیں۔ ان کے مطابق وہ مختصر وقت میں لاہور پہنچے اور شام 5 بج کر 5 منٹ پر شاہدرہ پہنچ چکے تھے، جہاں انہوں نے کنٹینرز ہٹانے کی کوشش بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود یہ تاثر دیا گیا کہ وہ جان بوجھ کر دیر سے پہنچے۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے صرف دو دن کا وقت تھا اور تقریباً 18 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جب قافلہ راولپنڈی کے قریب پہنچا تو پارٹی کی جانب سے پیغام ملا کہ اب جلسہ نہیں کرنا۔

27 ستمبر کے حوالے سے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ پارٹی کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں نکلیں گے، تاہم موجودہ صورتحال میں کارکنوں میں کچھ کنفیوژن پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو پارٹی کی قیادت اور منصوبہ بندی کے حوالے سے جن لوگوں کی ذمہ داری ہوگی، وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔ پارٹی کی جانب سے جو بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، وہ اس پر عمل کریں گے۔

علی امین گنڈاپور نے ایک بار پھر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ان کی اولین ترجیح ہے اور ان کے خلاف کی جانے والی مبینہ سازشوں کا معاملہ عمران خان کی رہائی کے بعد دیکھا جائے گا۔