نیپال: سیلاب کے 9 روز بعد سرنگ سے دو مزدور زندہ نکال لیے گئے
دونوں کارکنوں کو ابتدائی امداد کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا
نیپال: سیلاب کے 9 روز بعد سرنگ سے دو مزدور زندہ نکال لیے گئے
نیپال میں شدید اچانک سیلاب کے نو روز بعد امدادی کارکنوں نے تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ میں پھنسے دو مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں کارکنوں کو ابتدائی امداد کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں انہیں اسپتال میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ریسکیو کیے گئے مزدوروں کی شناخت سنجیا شاہ اور کبیر مہارجن کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سرنگ سے نکلنے کی کوشش کے دوران رینگنے کی وجہ سے انہیں یہ زخم آئے۔
امدادی ٹیموں کو سرنگ کے اندر سے مزید افراد کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔ حکام کے مطابق کم از کم 39 دیگر افراد کو بھی زندہ نکالنے کی امید ہے، جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے صبح کے وقت سرنگ کے اندر سے آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔
سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دونوں مزدوروں کو سرنگ سے باہر نکالے جانے کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیپال کے دیگر ہائیڈرو پاور منصوبوں میں بھی 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بچائے گئے مزدوروں میں سے ایک کے بھائی نے اپنے عزیز کی بحفاظت واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر ملنے کے بعد اس کا دل اب سکون محسوس کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیپال کے ہمالیائی علاقے میں آنے والے شدید اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ سیلاب کے باعث متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے اور کئی کارکن سرنگوں سمیت مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔