حکومت سنجیدگی دکھائے تو عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں: لیاقت بلوچ
مسائل کے حل میں کتنا وقت لگتا ہے یہ بھی حکومتی رویے پر منحصر ہے۔
فائل فوٹو
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور مذاکراتی ٹیم کے چیئرمین لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کتنی سنجیدہ ہے، اس کا فیصلہ حکومت ہی کرے گی، جبکہ مسائل کے حل میں کتنا وقت لگتا ہے یہ بھی حکومتی رویے پر منحصر ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، آئی پی پیز کے معاہدوں کے خاتمے اور بجلی و روٹی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق مطالبات پر وزیراعظم اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم میں عنایت اللہ خان، فراست علی شاہ، ضیاء الدین انصاری، نصر اللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ شامل ہوں گے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کے دھرنے، احتجاج اور جلسے ملک بھر میں جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی احتجاجی سرگرمیوں کا مقصد عوام کو درپیش مشکلات کا حل حاصل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک گیر ہڑتال کے دوران حکومتی وفد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ پہنچا تھا، جہاں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت تین اہم مطالبات پیش کیے۔ حکومتی کمیٹی نے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا پڑتا ہے، تاہم حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی تھی۔