خواجہ آصف بھی نئے انتظامی یونٹس پر بول اٹھے، پی پی پر تنقید

جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت یا کم از کم اس معاملے پر نرم مؤقف اختیار کرتی ہے

September 5, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت یا کم از کم اس معاملے پر نرم مؤقف اختیار کرتی ہے، تاہم جب چار کے بجائے متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جائے تو سندھ کی علیحدگی سے متعلق نعرے سامنے آنے لگتے ہیں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے پس پردہ کچھ اور عوامل دیکھتے ہیں، جن کی تفصیل وہ مناسب وقت پر بیان کریں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کے شہری سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یعنی ڈیvolution ایک آئینی اصول ہے، جسے 18ویں ترمیم کے ذریعے تسلیم کیا گیا، تاہم اس پر مطلوبہ انداز میں عمل نہیں ہوسکا۔

وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے آئینی اصول پر سنجیدگی اور دیانت داری سے عملدرآمد کیا جائے، تاکہ جمہوریت نچلی سطح تک مضبوط ہو اور عام شہری اس کے فوائد حاصل کرسکیں۔

انہوں نے موجودہ انتظامی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا ارتکاز نظام کو غیر مؤثر بنا رہا ہے اور اس صورتحال کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق انتظامی تقسیم کے لیے نئے صوبے بنائے جائیں یا انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، اصل مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں موجود 36 ڈویژنز کو بھی نئے انتظامی نظام کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے یا اس مقصد کے لیے کوئی اور جغرافیائی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔

خواجہ آصف کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔