فیصل نصیر کو نیکٹا کا اضافی چارج یا ڈی جی سی کا عہدہ چھوڑنا ہوگا؟
یہ تعیناتی سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر تین سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ تقرری مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت کی گئی ہے۔
فائل فوٹو
وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کردیا ہے، تاہم ان کی نئی ذمہ داری کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ آیا وہ آئی ایس آئی کے ڈی جی (C) کے عہدے پر برقرار رہتے ہوئے نیکٹا کی ذمہ داری سنبھالیں گے یا موجودہ منصب سے الگ ہوکر نیکٹا میں فرائض انجام دیں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 4 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی منظوری سے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تعیناتی سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر تین سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ تقرری مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت کی گئی ہے۔
تاہم اس تعیناتی کے حوالے سے صحافی غریدہ فاروقی نے سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ ڈی جی (C) جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا کے کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے اور یہ ان کا اضافی چارج ہے۔ ان کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ معاملہ سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر ہے۔
دوسری جانب صحافی ماجد نظامی نے بھی میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیے جانے کی اطلاع شیئر کی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے فیصل نصیر کو نیکٹا کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کردیا ہے اور تعیناتی تین سال کے لیے کی گئی ہے۔
یہاں اصل اہمیت “سیکنڈمنٹ” کی اصطلاح کی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں اسے محض ایک عارضی اضافی چارج کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ واضح طور پر تین سال کی سیکنڈمنٹ کا ذکر موجود ہے۔ اسی وجہ سے فیصل نصیر کی موجودہ اور نئی ذمہ داریوں کے درمیان انتظامی حیثیت کے بارے میں سوال پیدا ہوا ہے۔
تازہ رپورٹس میں میجر جنرل فیصل نصیر کو آئی ایس آئی کے ڈی جی (C) کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ وہ 2022 سے اس ذمہ داری پر فائز تھے اور ان کی نیکٹا میں تعیناتی کو موجودہ منصب سے متعلق ایک اہم انتظامی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دستیاب سرکاری نوٹیفکیشن نیکٹا میں ان کی تین سالہ سیکنڈمنٹ کی تصدیق کرتا ہے، تاہم اس متن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ آئی ایس آئی کے ڈی جی (C) کا عہدہ بیک وقت برقرار رکھتے ہوئے نیکٹا کی ذمہ داری انجام دیں گے یا اس منصب سے باقاعدہ الگ ہوکر نیکٹا میں خدمات انجام دیں گے۔
اس لیے موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا کی ذمہ داری تین سال کے لیے سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر دی گئی ہے، جبکہ ان کے اسے “اضافی چارج” کے طور پر سنبھالنے کی بات صحافی غریدہ فاروقی کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
نیکٹا ملک میں انسدادِ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق قومی سطح کی پالیسی سازی، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور متعلقہ حکمتِ عملیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کی نئی ذمہ داری کے نتیجے میں نیکٹا اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے حوالے سے بھی اس تقرری کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔
اب اہم نکتہ یہی ہے کہ آنے والے احکامات میں فیصل نصیر کے ڈی جی (C) کے موجودہ منصب کے بارے میں کیا انتظام سامنے آتا ہے۔ فی الحال سرکاری دستاویز سے نیکٹا میں تین سالہ سیکنڈمنٹ واضح ہے، جبکہ ڈی جی (C) کی ذمہ داری برقرار رکھنے یا چھوڑنے کے معاملے کی حتمی وضاحت مزید انتظامی احکامات سے ہوگی۔