وی لاگر بلال غوری کی ہتھکڑی میں عدالت کے سامنے پیشی۔ تین روزہ ریمانڈ

ملزم سے یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری کرنی ہے۔این سی سی آئی اے

September 7, 2026 · امت خاص
تصویر: سوشل میڈیا

تصویر: سوشل میڈیا

اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کے بجائے وی لاگر بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔انہیں ہتھکڑی لگاکر عدالت لایاگیا۔

پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے صحافی بلال غوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔اس موقع پر این سی سی آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں ملزم سے یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری کرنی ہے۔

بلال غوری کو اسلام آباد میں شب نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گرفتار کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں نیکٹا میں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کے حوالے سے ایک گمراہ کن ویڈیو کا ایف آئی آر میں حوالہ دیا گیا تھا۔

بلال غوری کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعات 20، 26 اے کے تحت درج کیا گیا، ان کی گرفتاری نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا متنازع مواد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان پر مبینہ جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام لگا گیا ہے، ذرائع نے کہا کہ ایکس اور یوٹیوب پر مبینہ متنازع مواد نشر کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا۔ این سی سی آئی اے کی انکوائری میں سوشل میڈیا مواد مبینہ طور پر گمراہ کن قرار دیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ گمراہ کن معلومات پھیلانے کا بھی الزام ہے۔

اس حوالے سے عدالت میں وکیل حنظلہ حبیب نے کہا کہ کوئی نوٹس دیے بنا ہی ان کے موکل کو گرفتار کر لیا گیا۔

بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو غلط ہو۔ان کا کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے بتا دے کہ جھوٹی معلومات بلال غوری کے وی لاگ میں کہاں ہیں۔ صرف یہ بات بری لگ گئی کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی؟ یہ کون سا جھوٹ ہے؟

جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوال کیا کہ اس طرح کے الفاظ آپ کو مناسب لگتے ہیں تو بلال غوری نے جواب دیا کہ وہ ادارے کی کارکردگی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ’میں فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ آخر میں کیا کہا ہے آپ نے؟ غوری نے جواب دیا میں نے کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔جج نے ریمارکس دیے کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے کہ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے۔بلال غوری کا جواب تھا عدلیہ آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے احاطہ میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پیشی کے موقع پر صحافی بلال غوری کو جب انتہائی سخت سیکیورٹی میں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت کے سامنے لایا گیا تو وہاں موجود صحافیوں اور میڈیا کارکنوں نے شدید برہمی اور غصے کا اظہار کیا، اس دوران صحافیوں کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔

سماعت کے دوران پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے والی تفتیشی ایجنسی این سی سی آئی اے نے صحافی بلال غوری کے تفتیشی عمل کو مکمل کرنے، لیپ ٹاپ اور موبائل ڈیوائسز کی برآمدگی اور تفتیش کے دائرہ کار کو آگے بڑھانے کے لیے عدالت سے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔

فاضل عدالت نے فریقین اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ایجنسی کی استدعا کو جزوی طور پر منظور کیا اور 3 روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا، عدالت نے بلال غوری کو 3 دن کے لیے این سی سی آئی اے کی تحویل میں دینے کی ہدایت کی اور پولیس تفتیشی افسر کو پابند کیا کہ وہ مقررہ مدت ختم ہونے پر ملزم کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کریں۔