مشرقی پاکستان میں جنرل مٹھاکی رقاصہ اہلیہ اندو مٹھا کے ساتھ یحییٰ خان کا رقص
وران ضیافت وہ جام پہ جام لنڈھارہے تھے
تصویر: سوشل میڈیا
افواج پاکستان میں اسپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی کے بانی میجر جنرل ابو بکر عثمان مٹھا کی کلاسیکل ڈانسر اہلیہ اندو مٹھا کاچند روز قبل انتقال ہوا تو ان سے جڑی کئی باتیں میڈیا پر سامنے آئیں ۔
وی لاگر بلال غوری نے سوشل میڈیاپر پوسٹ میں لکھاہے کہ جب ابو بکر عثمان مٹھا کومیلا(مشرقی پاکستان) میں 53ویں بریگیڈ کی کمانڈ کررہے تھے توآرمی چیف جنرل یحییٰ خان انسپکشن کے لیئے تشریف لائے۔دوران ضیافت وہ جام پہ جام لنڈھائے جارہے تھے اور اُٹھنے کا نام نہیں لے رہے تھے اس موقع پر اندو نے مداخلت کی اورکہا کہ بینڈ کو اینٹی روم میں لایا جائے۔ بینڈ نے ایک گیت کی دھن بجانا شروع کی تو جنرل یحییٰ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اندو مٹھا کو رقص کی دعوت دی۔اندو ہاتھ تھام کر یحییٰ کو ڈرائنگ روم میں لے آئیں۔کچھ دیر بعد یحییٰ نے اندو سے پوچھا،کیا میں نے کوئی نامعقول حرکت کی؟اندو نے سختی سے جواب دیا ”ہاں“۔
ابو بکر عثمان مٹھا اور اندو کی تین بیٹیاں ہیں۔تحریمہ مٹھا،یمیمہ مٹھا اور راحیلہ مٹھا۔یمیمہ مٹھا کی شادی ایک غیر ملکی سے ہوئی۔2019ء میں میجر جنرل ابو بکر عثمان مٹھا کے داماد تب خبروں کی زینت بنے جب انسانی حقوق کے لیئے متحرک سماجی کارکن ادریس خٹک کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوا۔الزام یہ تھا کہ ادریس خٹک ،اندو مٹھاکے غیر ملکی داماد کو حساس معلومات فراہم کرتے رہے ہیں جو ایم آئی سکس کے ایجنٹ ہیں۔مگر ان کی اہلیہ یمیمہ مٹھا کی طرف سے اس الزام کی تردید کی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعدجنرل مٹھاسے بغیر کسی معقول وجہ کے تمغے اور پنشن چھین لی گئی، جس نے عوام کو کافی حیرت میں ڈال دیا کیونکہ ان کا کبھی کورٹ مارشل نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس واقعے کی وجہ سے مٹھا کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھٹو انتظامیہ نے انہیں اپنی نگرانی میں رکھا کیونکہ وہ ایس ایس جی (SSG) میں اپنے جونیئرز کے لیے ایک ہیرو بھی تھے۔ وہ بھٹو کے پورے دورِ حکومت میں زیرِ نگرانی رہے۔
رقاصہ اِندُو مٹھا 97 برس کی عمر میں گذشتہ دنوں ڈبلن (آئرلینڈ) میں وفات پا گئیں۔