قائمہ کمیٹی نے آیت نور کیس کی ازسرنو تحقیقات کی ہدایت کردی
والدین سے کہا گیا پہلے خود کو میاں بیوی ثابت کرو، ایم این اے بابر نواز کی بریفنگ
آیت نور والد کے ساتھ
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں آیت نور کیس کے حوالے سے ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی ہدایت کردی۔
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم این اے بابر نواز نے انکشاف کیا کہ پولیس دو دن تک مقتولہ کے والدین کو میاں بیوی ثابت کرنے میں مصروف رہی اور ان سے کہا گیا کہ پہلے ثبوت لاؤ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک خاتون ڈی ایس پی نے مقتولہ کی ماں سے انتہائی نازیبا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تم 7 ماہ کی حاملہ نہ ہوتیں تو بتاتی کہ تم کیا ہو؟
کمیٹی کا کہنا تھا کہ پولیس کی غفلت اور مس ہینڈلنگ کی وجہ سے یہ کیس خراب ہوا اور اس سلسلے میں ذمہ دار اعلیٰ افسران کو کم از کم معطل کیا جانا چاہیے تھا۔
اجلاس کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ایک 4 سالہ بچی کنویں کے اندر 4 دن تک کیسے زندہ رہی۔
قائمہ کمیٹی نے پولیس کی اب تک کی کارروائی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ایک نئی اور آزاد انویسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے کیس کی نئے سرے سے شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے
یاد رہے کہ آیت نور کے والدین کو ہراساں کرنے اور ان سے نازیبا سوالات پر امت نے کچھ دن قبل رپورٹ شائع کی تھی۔