میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے ریکارڈ روکے جانے پر جواب مانگ لیا

سندھ ہائی کورٹ: میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کی پولیس تفتیش پر شدید برہمی، ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری

September 7, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: تاجر میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے کیس کا اہم ریکارڈ مبینہ طور پر چھپانے اور تفتیش میں سنگین بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے میر رضا کے دوست رازق کا بیان قلمبند کیا گیا۔ سماعت کے دوران کمیشن نے ملاحظہ کیا کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ محض سات لائنوں کے بیان سے انتہائی اہم معلومات غائب تھیں۔

دوست کے مطابق کمرے سے ملنے والی رسید سے معلوم ہوا تھا کہ میر رضا کی شام کو ‘احمد راجہ’ نامی شخص سے ملاقات ہوئی تھی،جس کی تصدیق مقتول کی منگیتر نے بھی کی تاہم پولیس ریکارڈ سے یہ تمام تفصیلات حذف پائی گئیں۔ کمیشن نے قرار دیا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ریکارڈ قصداً چھپایا گیا ہے اور مقتول کے والدین کے خدشات بالکل درست ہیں۔

سماعت کے دوران گلستان جوہر کے ایس ایچ او کامران قریشی کی شدید کلاس لی گئی۔ کمیشن نے متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے تفتیش میں درج ذیل سنگین خلا نشاندہی کی۔

 کمیشن نے ایس ایچ او سے سوال کیا کہ ان کے علاقے کے گیسٹ ہاؤس میں غیر اخلاقی سرگرمیاں ہو رہی تھیں جن کا چوکیدار کو پتہ تھا لیکن ایس ایچ او نے لاعلمی ظاہر کی۔ کمیشن نے کہا، “آپ کا یہ دعویٰ ناقابل یقین ہے، لگتا ہے آپ مدد نہیں بلکہ پردہ پوشی کر رہے ہیں، آپ ہمیں مشکوک لگتے ہیں۔

 بغیر اجازت نامے کے کرائم سین کا دورہ کرنے پر کمیشن نے پوچھا کہ کیا وہ شواہد مٹانے گئے تھے یا پلانٹ کرنے؟ موقع پر میمو بنائے بغیر اور کرائم سین یونٹ کو بلائے بغیر لاش کی منتقلی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

 ایس ایچ او کے اس عذر پر کہ جگہ دشوار گزار تھی، کمیشن نے ریمارکس دیے، “ایدھی کے رضا کار وہاں پہنچ سکتے ہیں لیکن پولیس نہیں پہنچ سکی؟”

واقعے کے 48 گھنٹے بعد اچانک پستول کا ہولسٹر ملنے اور سی آئی اے ٹیم کی جانب سے شواہد کی تلاش کے نام پر جائے وقوعہ کی جھاڑیوں کو آگ لگانے پر کمیشن نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ایس ایس پی سی آئی اے کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔

کمیشن نے جمشید کے اے ایس پی، ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے اور ایس ایچ او عزیز بھٹو کی جائے وقوعہ پر غیر متعلقہ موجودگی کا جواب طلب کرتے ہوئے فیروز آباد اور گلستان جوہر تھانوں کے روزنامچے سیل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس تفتیش کے بجائے “فلم” بنا رہی ہے۔ ایس ایچ او عادل افضل نے میر رضا کے دوستوں کو گھر جانے اور احتجاج میں شرکت سے روکا تاکہ کیس خراب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک پیش ہونے والے تمام گواہوں نے والدین کے موقف کی تصدیق کی ہے۔ جبران ناصر نے تمام مکمل شدہ فارنسک رپورٹس کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

فوکل پرسن کی جانب سے شاہدین کے ویڈیو بیانات منگل تک جمع کرانے کی یقین دہانی پر جوڈیشل کمیشن نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔