مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 34 سینٹ اضافے کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

September 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مزید طول پکڑنے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکی اور خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھا دی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 34 سینٹ اضافے کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 1.15 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 92.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی 3.36 فیصد اضافے کے ساتھ 106.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
تاجروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافی خطرے کی قیمت شامل کی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران نے بھی خلیجی خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تہران کی جانب سے امریکی تیل اور گیس سے متعلق مفادات کو بھی خطرے میں قرار دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی واضح سفارتی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ہفتے کے روز ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک کارروائی ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارک جزیرے کے قریب کی گئی۔