عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کی درخواست
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور ان کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں قید تین افراد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے مساوی سہولیات کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرلیا۔
ذرائع کے مطابق تینوں قیدیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کا تعلق بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے تینوں درخواستوں کو الگ الگ نمبر بھی الاٹ کردیے ہیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں بھی وہی طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں جو عمران خان کو دستیاب ہیں۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور ان کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعلقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کو بھی عمران خان کے لیے مقرر کردہ طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
قیدیوں نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ انہیں بھی علاج کے لیے اسی اسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں درخواست گزاروں کو بھی عمران خان کی طرز پر واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے تینوں اپیلوں کو الگ الگ مقدماتی نمبر جاری کردیے ہیں۔ پہلی اپیل 2050/2026، دوسری 2051/2026 جبکہ تیسری اپیل 2052/2026 کے نمبر سے رجسٹر کی گئی ہے۔
تینوں درخواستوں میں بنیادی مؤقف یہ اختیار کیا گیا ہے کہ جیل میں موجود قیدیوں کو بھی آئین کے تحت مساوی سلوک اور مناسب طبی سہولیات کا حق حاصل ہے، اس لیے کسی ایک قیدی کو حاصل خصوصی طبی سہولت کی صورت میں دیگر قیدیوں کے حقوق کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔