سندھ کے اسکولوں میں اوقات کار ایک گھنٹہ کم کرنے کا فیصلہ

بعض علاقوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باوجود بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں

September 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے شدید گرمی کے پیش نظر صوبے کے اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ شدید گرمی کے باعث طلبہ کے لیے معمول کے اوقات میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ صوبے کے متعدد اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔

سید سردار علی شاہ نے کہا کہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باوجود بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق کئی اسکولوں میں طلبہ کے لیے مناسب چھت تک موجود نہیں، جو تعلیمی نظام کو درپیش سنگین مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لیے انتہائی مشکل صورتحال ہے، اس لیے ایسے اسکولوں کے مسائل فوری طور پر حل کیے جانے چاہئیں اور طلبہ کو گرمی سے محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔

وزیر تعلیم نے اسکولوں میں مناسب چھت، بنیادی سہولیات اور دیگر ضروری انتظامات یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو موسم کی شدت سے محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سید سردار علی شاہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سالانہ 1200 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں تعلیم کے لیے مزید وسائل مختص کیے جائیں تاکہ تعلیمی شعبے کے بنیادی مسائل حل کیے جاسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں لاکھوں بچے کمیونٹی کی سطح پر قائم مراکز کے ذریعے تعلیم حاصل کررہے ہیں، تاہم گزشتہ تین برس سے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باعث ان مراکز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث تعلیمی مراکز کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ صوبے کے 480 ارب روپے کے تعلیمی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کی رقم الگ ظاہر کی جانی چاہیے تاکہ تعلیمی شعبے کے حقیقی آپریشنل اخراجات کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی تنظیموں کو تعلیمی مراکز چلانے کے لیے براہ راست مالی معاونت فراہم کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ مراکز کاروباری ادارے نہیں بلکہ کمیونٹی کی فلاحی بنیادوں پر چلنے والے تعلیمی منصوبے ہیں۔

سید سردار علی شاہ کا کہنا تھا کہ شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث طلبہ کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ضروری ہے تاکہ موسمی حالات ان کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں۔