میر رضا کیس،وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت

کیس کی سماعت کے دوران میر رضا کے والد، بہن اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں اور مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

September 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

کیس کی سماعت کے دوران میر رضا کے والد، بہن اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں اور مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے تاخیر سے لیبارٹری پہنچائے گئے۔ اس پر کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ان نمونوں کی کوئی مقررہ مدت ہوتی ہے جس کے بعد ان کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے؟

ڈاکٹر سمعیہ نے جواب دیا کہ عمومی طور پر تاخیر سے نمونوں پر فرق نہیں پڑتا، تاہم اگر کسی کیمیائی مادے کے آثار نہ ملیں تو صرف تاخیر کی بنیاد پر حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حساس اور اہم نوعیت کے مقدمات میں عموماً نمونے لیبارٹری پہنچانے میں تاخیر نہیں کی جاتی۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراض کیا کہ سوالات کمیشن کے ارکان کی جانب سے کیے جانے چاہئیں اور وکیل جبران ناصر کو براہ راست سوالات نہیں کرنے چاہئیں۔

اس پر کمیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاندان کی جانب سے کوئی سوال کیا جا رہا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر اعتراض کیوں ہے۔ کمیشن نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا حکومت کسی معاملے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟

کمیشن نے قرار دیا کہ کارروائی کے دوران وزیر داخلہ سندھ کے طرز عمل سے متعلق بھی وضاحت ضروری ہے، اس لیے انہیں طلب کیا جانا چاہیے۔

بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت کے باعث کمیشن نے کارروائی عارضی طور پر روک دی اور وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے وزیر داخلہ سندھ کو طلب کیے جانے کے بعد میر رضا کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔