بلدیاتی انتخابات: خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے مزید 3 ہفتے کی مہلت

گزشتہ سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے انتخابی عمل سے متعلق قانون سازی کے لیے تین ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی

September 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومت کو ضروری قانون سازی مکمل کرنے کے لیے مزید تین ہفتوں کا وقت دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کی۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری نے بتایا کہ صوبے کے سات اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل فی الحال رکا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی مرحلے میں کرائے جائیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے انتخابی عمل سے متعلق قانون سازی کے لیے تین ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی۔ بعد ازاں 31 اگست کو صوبائی کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں بلدیاتی نظام اور دیگر صوبوں میں رائج قوانین کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے کمیشن کو بتایا کہ صوبائی کابینہ کی متعلقہ کمیٹی بلدیاتی قوانین میں ممکنہ ترامیم کا جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

سماعت کے دوران کمیشن کے رکن بلوچستان نے صوبائی حکومت کی جانب سے تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں تاخیری حربے اختیار کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو کمیشن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو طلب کرنے کا اختیار استعمال کرنا پڑسکتا ہے۔

ممبر سندھ نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات بہرحال کرانا ہوں گے اور الیکشن کمیشن کے پاس آئینی و قانونی اختیارات موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ممبر خیبرپختونخوا نے نشاندہی کی کہ اگر بلدیاتی قوانین میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں پہلے سے جاری حلقہ بندیوں کے عمل پر بھی اثر پڑے گا اور قانون میں تبدیلی کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل دوبارہ کرنا پڑسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت فیصلہ کرلے کہ پورے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن اس حوالے سے انتظامات کرسکتا ہے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو قانون سازی مکمل کرنے کے لیے مزید تین ہفتوں کی مہلت دے دی۔ کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا معاملہ آئینی تقاضا ہے، اس لیے قانون سازی اور حلقہ بندیوں کے مراحل کو غیر ضروری طور پر مزید طول نہیں دیا جاسکتا۔