پاکستان کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال کی تعمیر مکمل، 12 آپریشن تھیٹرز قائم
ہسپتال کا مقصد جنگلی حیات کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا اور زخمی یا بیمار جانوروں کے علاج کے نظام کو بہتر بنانا ہے
فوٹو سوشل میڈیا ایکس
لاہور: پنجاب میں جنگلی حیات کے علاج اور تحفظ کے لیے پاکستان کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال کی تعمیر مکمل کرلی گئی، جہاں جانوروں، پرندوں اور درندوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے دورے کے دوران سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو وائلڈ لائف ہسپتال سمیت مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید سہولیات سے لیس ہسپتال میں 12 آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ جانوروں اور پرندوں کے طبی معائنے کے لیے 2 معائنہ رومز بھی موجود ہیں۔ ہسپتال کا مقصد جنگلی حیات کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا اور زخمی یا بیمار جانوروں کے علاج کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وائلڈ لائف ہسپتال کا قیام جنگلی حیات کے تحفظ اور علاج کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جانوروں اور پرندوں کے علاج کے نظام میں بہتری آئے گی۔
اجلاس میں جلو پارک کی ترقی سے متعلق منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر جلو پارک کو سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت جدید ماحولیاتی سیاحت کے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے جامع منصوبہ اور کاروباری منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
اجلاس میں جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق جنگلات میں آتشزدگی کی بروقت نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت، طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے حرارتی کیمروں، براہ راست نگرانی اور سیٹلائٹ نظام سے مدد لی جارہی ہے۔
جدید نگرانی کے ذریعے جنگلات میں کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا آگ کے آثار کی بروقت نشاندہی کرکے متعلقہ ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کیا جاسکے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ایک سال کے دوران 5 کروڑ پودے لگانے کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے، جبکہ مون سون شجرکاری مہم کے تحت مزید ایک کروڑ سے زائد پودے لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق عوام کی شمولیت سے غازی گھاٹ میں 1500 ایکڑ رقبے پر شجرکاری بھی کی جائے گی، جس کا مقصد ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا ہے۔
پنجاب میں 285 جیو ٹیگنگ نرسریاں بھی فعال کردی گئی ہیں۔ ان نرسریوں میں لگائے جانے والے پودوں کا ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ان کی نگرانی کی جارہی ہے۔
اس نظام کے تحت پودوں سے متعلق معلومات محفوظ رکھنے کے ساتھ شجرکاری کے عمل کی نگرانی اور ریکارڈ کی جانچ بھی ممکن ہوگی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سفاری پارک میں جراف کیفے اور ٹری ہاؤس کیفے کی تعمیر بھی مکمل ہوچکی ہے۔ ان سہولیات کا مقصد شہریوں کو قدرتی ماحول میں تفریح کے نئے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ایکو ٹورازم کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق نئے منصوبوں سے سفاری پارک کو جدید تفریحی اور ماحولیاتی سیاحتی مرکز کے طور پر مزید ترقی دینے میں مدد ملے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 5 ہزار سے زائد اہلکاروں پر مشتمل فارسٹ رینجرز فورس میں پہلی مرتبہ 215 خواتین اہلکاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
جنگلات میں غیر قانونی لکڑی کی کٹائی اور چوری کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے جانے کی بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں چھانگا مانگا، سفاری پارک اور دیگر جنگلات و جنگلی حیات سے متعلق منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایکو ٹورازم کے فروغ، جنگلات کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں جنگلات کی براہ راست نگرانی، جیو ٹیگنگ، سیٹلائٹ نگرانی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کا بھی معائنہ کیا۔