نیب کیسز میں جسمانی ریمانڈ 40دن کرنے کےصدارتی آرڈیننس کیخلاف فیصلہ محفوظ

وکیل کےمطابق اس آرڈیننس کامقصد صرف بانی پی ٹی آئی کوطویل عرصےتک حراست میں رکھنا تھا

September 8, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کیس میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے صدارتی آرڈیننس کے اقدام کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے نجیع اللہ کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار اظہر صدیق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان کی جانب سے ریمانڈ کی مدت 14 دن مقرر کیے جانے کے باوجود صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسے 40 دن تک بڑھانا آئینی اختیار سے تجاوز ہے۔ ان کے مطابق اس آرڈیننس کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے لیے ریمانڈ کی مدت میں اضافہ کرنا تھا۔

وکیل نے کہا کہ یہ عمل پارلیمانی قانون سازی کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ 2024 میں جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنا آئینی اختیار سے تجاوز تھا۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان نے خود باقاعدہ غور و بحث کے بعد ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 14 دن مقرر کی تھی، صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ آرڈیننس کے ذریعے اس پارلیمانی فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے ریمانڈ کی مدت 40 دن کردیں۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق آرڈیننس اسمبلی کے سامنے پیش ہوا، تاہم اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا بلکہ مسترد کردیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اقدام کو پارلیمانی تائید حاصل نہیں تھی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ آرڈیننس لاہور ہائی کورٹ میں ختم ہوچکا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ آچکا ہے۔ ان کے مطابق درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، اس لیے درخواست خارج کی جائے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصل سوال آرڈیننس کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ صدر کے آئینی اختیار کا ہے، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ نہیں دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نہ کوئی ایسی ہنگامی صورتحال موجود تھی اور نہ ہی غیر معمولی حالات جن کی بنیاد پر پارلیمان کے مقرر کردہ قانونی انتظام کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کیا جاسکے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔