خام تیل کی قیمت مین بڑا اضافہ ، 99 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

منگل کے روز پاکستانی وقت کے مطابق دن دو بج کر 56 منٹ پر برینٹ خام تیل کے سودے98.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

September 8, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک: حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور تہران کی طرف سے امریکہ کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی کے بعد منگل کو تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کے روز پاکستانی وقت کے مطابق دن دو بج کر 56 منٹ پر برینٹ خام تیل کے سودے 1.39 ڈالر، یا 1.43 فیصد اضافے کے ساتھ 98.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.25 ڈالر، یا 2.46 فیصد اضافے کے ساتھ 93.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح تھی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 94.73 تک پہنچ گئی تھی جو آٹھ جون کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

منگل کے روز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں 73 افراد کے زخمی ہونے کے بعد بعض توانائی کی تنصیبات پر سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر ایک جدید میزائل داغا ہے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سنیچر کے روز امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے ایک خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت بھی سست پڑ گئی ہے کیونکہ ایران نے سوموار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے مزید حملے کیے تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں روزانہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا۔