نیکٹا میں تعیناتی فوج کا اندرونی معاملہ ہے، بیرسٹر گوہر

27 ستمبر کا احتجاج ملتوی نہیں ہوگا،ملاقاتوں پر عدالتی احکامات بھی موجود ہیں ،میڈیا سے گفتگو

September 8, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے، جبکہ نیکٹا میں کسی بھی تعیناتی کا معاملہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم نے کبھی کسی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی پر سوال نہیں اٹھایا۔

اڈیالہ روڈ کے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے پر تشویش ہے اور اسی وجہ سے حالات اس نہج تک پہنچے۔ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ملکی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کے ساتھ نہیں رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتیں ہوتیں تو پیغامات آتے اور حالات بہتری کی طرف جاتے، تاہم عدلیہ نے بھی ہمیں ہمیشہ مایوس کیا۔ 26ویں ترمیم سے پہلے کی عدلیہ انتخابات نہ کرواسکی جبکہ موجودہ عدلیہ بھی ایک ملاقات تک نہیں کرواسکی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقاتوں سے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ میں ہماری درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ہمیں دیوار سے لگا کر پارٹی کو دیوار میں چن دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے ہی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو پُرامن احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کا اختیار نہیں؟

چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ احتجاج کے دوران کسی کے ہاتھ میں لاٹھی یا غلیل نہیں ہوگی۔ عدلیہ انصاف نہ دے اور پارلیمنٹ بات نہ سنے تو انصاف کے لیے سڑکوں پر ہی جانا پڑے گا۔ سیاسی تناؤ اور چپقلش سے عوام اکتا چکی ہے، حالات بہتر بنانے کے لیے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کی کال اٹل ہے اور اس پر نظرثانی نہیں کرسکتے۔ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقات کے حوالے سے عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شاندار استقبال کیا، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے راستے بند کرنا مناسب نہیں تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کو سونپی ہے۔

صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ اور عوامی مسئلہ ہے، اس معاملے میں جلدبازی نقصان دہ ہوگی۔ آبادی کے تناسب سے کبھی صوبے نہیں بنے، اترپردیش کی آبادی 25 کروڑ ہے تو کیا وہاں بھی تین تین کروڑ کی آبادی پر صوبے بنانے چاہئیں؟ موجودہ پارلیمنٹ پہلے ہی متنازع آئینی ترامیم کرچکی ہے، مزید ترمیم سے وفاق کمزور ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا۔ بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کرانے کے حوالے سے ہائیکورٹ کا آرڈر موجود ہے، جبکہ فیملی کو معلوم ہوگا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کے پاس کیا کچھ ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کے لیے صوبے کے وسائل استعمال کیے اور نہ آئندہ کرے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا اور دہشت گردی سے متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ تھا، ہمیں ان سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی۔ ایک صوبے کے خلاف اس نوعیت کا بیان مزید تناؤ پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے را ہے اور دوسری طرف یہ بھی مؤقف ہے کہ دہشت گردی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔

نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم کو اپوزیشن لیڈر سے رابطے میں پہل کرنی چاہیے۔ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت جنوری 2025 میں ختم ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سے بات چیت کا مینڈیٹ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے۔

دریں اثنا راولپنڈی اڈیالہ روڈ سے پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں بھی شروع ہوگئیں۔ راولپنڈی پولیس نے کارکنوں کو حراست میں لے کر پولیس وین میں منتقل کیا۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی صدر بیرونی پولیس نے چار پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے پکڑا گیا۔