مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ

برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 99.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 1.4 فیصد اضافے کے بعد 94.75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔

September 9, 2026 · کامرس
فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بدھ کی ابتدائی تجارت کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 99.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 1.4 فیصد اضافے کے بعد 94.75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔

دوسری جانب یو اے ای مربن خام تیل کی قیمت 110.20 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

رپورٹس کے مطابق اگست کے آغاز سے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی اہم حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے دوران حالیہ حملوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں مزید بے یقینی پیدا کردی ہے۔ سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملوں، امریکی کارروائیوں اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد سرمایہ کار تیل کی مستقبل کی سپلائی کے حوالے سے محتاط ہوگئے ہیں۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کے اہم بحری راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل پہلے ہی دباؤ میں ہے، جبکہ سعودی عرب پر حملے طویل ہونے کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

ING کے تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ صورتحال سے مارکیٹ میں خطرے کا اضافی مالی اثر برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ امن مذاکرات کی بحالی میں تاخیر کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جاسکتا ہے۔