میر رضا قتل کیس، ضیا لنجار کی جوڈیشل کمیشن کے سامنے غیر مشروط معذرت
ہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے جوڈیشل کمیشن سے رویے پر معذرت خواہ ہیں، ضیا لنجار
فوٹو سوشل میڈیا
کراچی: سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوکر سندھ حکومت کی جانب سے غیر مشروط معذرت کرلی۔
سماعت کے دوران ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ حکومت کی جانب سے معذرت اور غیر مشروط معافی کے لیے پیش ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا بنیادی مقصد اعتماد کی بحالی ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب شہریوں کا پولیس یا دیگر اداروں پر اعتماد کم ہوجائے تو عدالت ہی وہ فورم رہ جاتی ہے جہاں سے انصاف کی امید وابستہ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور اصل ذمہ داروں تک پہنچا جائے۔
ضیا الحسن لنجار نے جوڈیشل کمیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس عمر سیال کے کردار اور پیشہ ورانہ ریکارڈ کو بھی سراہا۔
سماعت کے دوران کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ میر رضا کیس کے حوالے سے عوام اور مقتول کے والدین میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں، جبکہ خاندان کا اعتماد بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کی کوشش ہے کہ متاثرہ خاندان اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے طرز عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول کے خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر اعتراضات سامنے آنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ کو مختصر وقت کے لیے طلب کرنے کا مقصد بھی عوام اور متاثرہ خاندان کے اعتماد کی بحالی تھا، جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے کیے گئے بعض اقدامات کو انہوں نے مثبت قرار دیا۔
دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیشن نے معاملے کی مزید سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔