منتخب بلدیاتی حکومت تک نیا ٹیکس یا اضافہ غیرقانونی قرار،تاجر تنظیمیں برہم
تاجر رہنماؤں کا متنازع پراپرٹی ٹیکس بلوں کی وصولی فوری روکنے کا مطالبہ
فائل فوٹو
اسلام آباد؛ آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد سمیت وفاقی دارالحکومت کی تاجر تنظیموں نے منتخب بلدیاتی حکومت کے قیام تک اسلام آباد میں نیا ٹیکس عائد کرنے یا موجودہ ٹیکس میں اضافے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ٹریڈرز یونین آئی اینڈ ٹی سینٹر جی ایٹ ون اسلام آباد کے جنرل سیکریٹری چوہدری عبدالغفار، راؤ سکندر، فیصل چوہدری، محمد شفیق، ناصر چوہدری، عثمان حمید، اکرم وڑائچ، سیف اللہ، آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکریٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد محمود چوہدری سمیت دیگر تاجر رہنماؤں نے میڈیا کو آگاہ کیا۔
تاجر رہنماؤں نے بتایا کہ سی ڈی اے کے محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ پراپرٹی ٹیکس کے نئے اور اضافی بلوں نے اسلام آباد کی تاجر برادری اور شہریوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پراپرٹی ٹیکس کے معاملے میں واضح فیصلے صادر کرچکی ہے، ان عدالتی احکامات کی روشنی میں سی ڈی اے متنازع اور اضافی پراپرٹی ٹیکس کے بل واپس لے کر درست اور نظرثانی شدہ بل جاری کرنے کا پابند ہے۔
تاجر رہنماؤں کے مطابق عدالتی فیصلوں کے تحت منتخب بلدیاتی حکومت کے قیام تک نہ کوئی نیا ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پہلے سے نافذ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پراپرٹی ٹیکس کے مقدمات میں فیصلے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حق میں آچکے ہیں جبکہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے ان فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ محض اپیل زیرِ سماعت ہونے کی بنیاد پر عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنا، اضافی بل جاری کرنا یا شہریوں منصفانہ اور قانونی ٹیکسوں کی ادائیگی سے انکار نہیں کرتی، تاہم عدالتی احکامات کے برخلاف عائد کیے گئے اضافی مالی بوجھ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا سے متنازع ٹیکس وصول کرنا مناسب نہیں۔
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حتمی عدالتی فیصلے تک متنازع پراپرٹی ٹیکس بلوں پر وصولی، جرمانوں، سرچارج اور جائیدادیں سیل کرنے سمیت تمام تادیبی کارروائیاں فوری طور پر معطل کی جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ ریونیو ہر مارکیٹ میں تاجروں کی سہولت کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرے، جہاں عدالتی احکامات کے مطابق بلوں کی بروقت تصحیح کی جاسکے۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ تاجر برادری مناسب، منصفانہ اور قانونی ٹیکسوں کی ادائیگی سے انکار نہیں کرتی، تاہم عدالتی احکامات کے برخلاف عائد کیے گئے اضافی مالی بوجھ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور کاروباری اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے باعث کاروباری طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے، ایسے حالات میں غیر قانونی یا متنازع ٹیکسوں کا نفاذ کاروبار دشمن اقدام ثابت ہوگا۔
اجمل بلوچ اور خالد محمود چوہدری نے چیئرمین سی ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، محکمہ ریونیو کو متنازع بل واپس لینے کی ہدایت کریں اور عدالتی فیصلوں کے مطابق درست بل جاری کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے توہین عدالت کی درخواست سمیت تمام قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔