پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے جماعت اسلامی سے 3 دن کا وقت مانگ لیا

حکومتی وفد نے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال موخر کرنے کا کہا ہے، ریلیف نہ ملا تو دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے:لیاقت بلوچ

September 10, 2026 · اہم خبریں, قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد : جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، حکومت نے جماعت اسلامی سے مزید تین دن کا وقت مانگ لیا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ تین دن مزید اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال نہ دے۔

حکومتی وفد سے مذاکرات کیلئے جماعت اسلامی کا وفد نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پنجاب ہاؤس پہنچا، حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔

حکومتی ٹیم میں رانا ثناء اللّٰہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل تھے۔

اس سے قبل 7 ستمبر کو نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے وفد نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق  حکومت کو تجاویز و سفارشات پیش کی تھیں۔

دوسری جانب نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال موخر کرنے کا کہا ہے، اگر حکومت ریلیف نہیں دیتی تو دھرنے ملک بھر سے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔

اسلام آباد میں وفد کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آج پنجاب ہاؤس میں جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کا بات چیت کا دوسرا دور ہوا ہے۔

 نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کے لیے ریلیف چاہتے ہیں۔ لیوی ختم ہونی چاہیے، ہم نے حکومت کا چھ نکات پیش کیے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے پاس آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے تین دن مانگے تھے، بیوروکریٹس مشکلات کا پہاڑ پیش کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال موخر کرنے کا کہا ہے۔ اگر حکومت ریلیف نہیں دیتی تو دھرنے ملک بھر سے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔