سوات: مدین میں بچی کے قتل کخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، کالام روڈ بند
گرفتار ملزم سلطان محمد کو سخت اور عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ
سوات: مدین میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کمسن طالبہ کے المناک واقعے کے خلاف احتجاج
سوات: مدین میں کم عمر بچی کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے کالام روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔
احتجاجی مظاہرے میں سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور وکلاء نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزم سلطان محمد کو سخت اور عبرتناک سزا دی جائے، مقدمے کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے خصوصی کمیشن تشکیل دیا جائے اور ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے شامل کی جائے۔
بحرین بار کے وکلا نے اعلان کیا کہ ملزم کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا، جبکہ متاثرہ خاندان کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور مقدمہ اعلیٰ عدالتوں تک لڑا جائے گا۔
مقررین نے ملزم کی بروقت گرفتاری اور آلہ قتل پستول برآمد کرنے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی کارروائی پر مکمل نظر رکھی جائے گی، تاہم انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کیا۔اس موقع پر بازار مدین کے صدر الطاف حسین کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو سوات کی مختلف بار کونسلوں سے مشاورت کرے گی تاکہ ملزم کی قانونی پیروی کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔
بعدازاں ایس پی انویسٹی گیشن بر سوات شوکت علی خان نے مظاہرین سے ملاقات کرکے انہیں یقین دہانی کرائی کہ پولیس شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں پیش کرے گی اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ مدین میں گزشتہ روز محکمہ جنگلات کے چوکیدار سلطان محمد پر نے اپنے گھر آنے والی نو سالہ پڑوسن اشمل کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مبینہ طور پر آلہ قتل پستول سمیت گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم کے دیر میں اپنے چچا کے قتل میں بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔